تمباکو کا استعمال ممنوع و مکروہ ہے

مسئلہ:

تمباکو کی اقسام واغراض اور خواص مختلف ہوتی ہیں ،اس لئے اس کے استعما ل میں مختلف اقوال ہیں ،لیکن غالباً اس کا استعمال بلا غرضِ صحیح یعنی علاج وغیرہ کے لئے نہیں ہوتا ہے ، اور شریعتِ اسلامیہ اپنے ماننے والوں کو ہر ایسی چیز کے کھانے اور پینے سے منع کرتی ہے ،جو اسے فوراً یا آہستہ آہستہ ہلاک کردے(۱)،اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: ﴿ولا تلقوا بأیدیکم إلی التھلکة﴾اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (البقرة : ۱۹۵) اس پر یہ شاہد ہے،اس لیے اگر تمباکو کے استعمال سے نشہ ہو تو اس کا استعمال حرام ہے ، اوراگر نشہ نہ ہو تب بھی اس میں مال کو ضائع کرنا(۲) اور دوسروں کوتکلیف پہنچانا(۳) دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ،اس لئے اس کا استعمال ممنوع ومکروہ ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تقتلوا أنفسکم إن الله کان بکم رحیمًا﴾ ۔که اپنے آپ کو قتل نه کرو یقینا الله تم پر مهربان هے۔ (سورة النساء :۲۹)

 ما في ” الصحیح لمسلم “ : قوله ﷺ : ” کل مسکر حرام “ ۔

(۱۶۷/۲ ، کتاب الأشربة ، باب بیان أن کل مسکرخمر وأن کل خمر حرام ، سنن أبي داود :ص/۵۱۸ ، کتاب الأشربة ، باب ما جاء في السکر)

(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : ” ولأن النبي ﷺ نھٰی عن إضاعة المال “ ۔(۳۲۵/۱ ، کتاب الخصومات ، باب من ردّ أمر السفیه الضعیف العقل الخ)

(۳) ما في”مجمع الزوائد“:قوله ﷺ:”لا ضرر ولا ضرار في الإسلام“۔(۱۳۸/۴، البیوع ، باب لا ضرر ولا ضرار ، ابن ماجه :ص/۱۵۹ ، أبواب الأحکام ، التمهید :۲۸۴/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔