تہجد گذار کے لیے رمضان میں وتر کا حکم

مسئلہ:

رمضان المبارک میں تہجد گذار شخص کیلئے بھی وتر کو جماعت کے ساتھ پڑھنا، تنہا تہجد کے وقت پڑھنے سے افضل ہے،(۱) کیوں کہ آپ ﷺ نے حضرات صحابہ کو تراویح کے ساتھ وتر کی نماز باجماعت پڑھائی تھی، پھر تراویح کے فرض ہوجانے کے اندیشہ سے اسے ترک فرمایا تھا،(۲) نیز یہی عمل حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت أبی بن کعبؓ کا رہا،(۳) اور اس وقت سے آج تک تمام اسلاف کا معمول بھی یہی ہے کہ تراویح اور وتر رمضان المبارک میں باجماعت ادا کرتے ہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” نور الإیضاح “ : وصلوٰته مع الجماعة فی رمضان أفضل من أدائه منفرداً آخر اللیل، فی إختیار قاضی خان قال: هو الصحیح۔ (ص:۹۵، کتاب الصلوٰة، باب الوتر)

(۲) ما فی ” مراقی الفلاح “ : وفی ا لفتح والبرهان: ما یفید أن قول قاضیخان أرجح، لأنه ﷺ أوتر بهم فیه، ثم بین عذر الترک، وهو خشیة أن یکتب علینا قیام رمضان، وکذا الخلفاء الراشدون صلوه بالجماعة۔(ص:۳۸۶، کتاب الصلاة، باب الوتر وأحکامه، مکتبة شیخ الهند دیوبند)

وفیه أیضاً: ثم بین العذر في الترک وهو خشیته ﷺ افتراضها علینا۔(ص:۴۱۲، کتاب الصلاة، فصل في صلاة التراویح، مکتبة شیخ الهند دیوبند)

(۳) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وقد کان عمر یوٴمهم فی الفریضة والوتر وکان أبي یوٴمهم فی التراویح، کذا فی السراج الوهاج۔ (۱۱۶/۱، فصل فی التراویح)

(فتاوی رحیمیه :۲۳۳/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔