مسئلہ:
بعض علاقوں میں میت کے ایصالِ ثواب کے لیے تیجہ، ساتواں ، دسواں ، چالیسواں ، ششماہی اور سالانہ کا کھانا پکاکر کھلایا جاتا ہے، شرعِ اسلامی میں اس کی کوئی اصل نہیں، شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ اپنی کتاب’’جامع البرکات‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ’’ بہتر آنست کہ نہ خورد‘‘ بہتر یہ ہے کہ اس طرح کا کھانا نہ کھائے۔
اگر کسی کو ایصالِ ثواب کرنا ہی ہو تو شرعی طریقے پر کریں نہ اس میں کھانوں کی قید ہو اور نہ ہی دن مخصوص کئے جائیں، جو کچھ حسبِ وسعت میسر آئے غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کردیں ، رسمِ فاتحہ اور قل خوانی وغیرہ بدعت ہیں۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’صحیح البخاري‘‘: ’’ من أحدث في أمرنا هذا ما لیس منه فهو رد ‘‘۔( رقم الحدیث:۲۶۹۷،کتاب الصلح)
ما في ’’کتاب التعریفات للجرجاني‘‘: البدعة هي الأمر المحدث الذي لم یکن علیه الصحابة والتابعون ولم یکن مما اقتضاه الدلیل الشرعي۔(ص۴۷)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: ما أحدث علی خلاف الحق الملتقی عن رسول الله ﷺ في علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان وجعل دیناً قویماً وصراطاً مستقیماً ۔
(۲۵۶/۲ ، مطلب البدعة علی خمسة أقسام)
وما في ’’الدر المختار مع الشامیة ‘‘: ویکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویکره اتخاذ الطعام في الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلی القبر في المواسم ۔ (۱۳۸/۳، کتاب الجنائز ، مطلب کراهة الضیافة من أهل المیت ، الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة:۸۱/۴، الخامس والعشرون في الجنائز وفیه الشهید ، نوع آخر، فتح القدیر:۱۵۱/۲، کتاب الجنائز، قبیل باب الشهید)
(فتاویٰ عبد الحی:ص۹۰)
