تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا

مسئلہ:

تین دن سے زیادہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے پاس رکھنا اور اس کے بعد اسے کھاتے رہنا جائز اور درست ہے، ایک خاص مصلحت کی وجہ سے نبی ٴ کریم ﷺ نے صرف ایک سال کے لیے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرمایا تھا، وہ مصلحت یہ تھی کہ مدینہ منورہ میں بقرعید کے موقع پر ایک مرتبہ باہر سے بہت مسلمان آگئے، جو غربت وافلاس کے شکار تھے، اور کھانے پینے کی ان کو تنگی تھی، اس لیے آپ انے اعلان فرمایا : ” لا یأکل أحدکم من لحم أضحیتہ فوق ثلاثة أیام “ کوئی آدمی تین دن کے بعد قربانی کا گوشت نہ کھائے(۱)، پھر جب آئندہ سال حضرات صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا تو آپ ﷺ نے اعلان فرمایا : ” فکلوا ما بدا لکم وأطعموا وادّخروا“ جب تک چاہو کھاؤ، کھلاوٴ اور جمع کرکے رکھو، اور گذشتہ سال منع کرنے کی وجہ بھی بتلادی: ” کنت نہیتکم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث لیتسع ذوو الطول علی من لا طول له “ کہ سالِ گذشتہ میں نے تم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھاتاکہ وسعت والے ان لوگوں پر وسعت کریں جن کو قربانی کی وسعت نہیں ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” جامع الترمذي “ : عن ابن عمر أن النبي ﷺ قال: ” لا یأکل أحدکم من لحم أضحیته فوق ثلاثة أیام “۔

(۲۷۷/۱، أبواب الأضاحي، باب في کراهیة أکل الأضحیة فوق ثلاثة أیام، مکتبة دار السلام سهارنفور)

(۲) ما في ” جامع الترمذي “ : عن سلیمان بن بریدة عن أبیه قال: قال رسول الله ﷺ: ” کنت نهیتکم عن لحوم الأضاحی فوق ثلاث لیتسع ذو الطول علی من لا طول له، فکلوا ما بدا لکم وأطعموا وادخروا “۔ (۲۷۷/۱، أبواب الأضاحي، باب الرخصة في أکلها بعد ثلاث)

ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر عن النبي ﷺ أنه نهی عن أکل لحوم الضحایا بعد ثلاث، ثم قال بعد: ” کلوا وتزودوا وادخروا “۔

(۱۵۸/۲، کتاب الأضاحي، ما کان عن النهی عن أکل لحوم الأضاحی)

ما في ” السنن لإبن ماجة “ : عن نبیشة أن رسول الله ﷺ قال: ” کنت نهیتکم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاثة أیام فکلوا وادّخروا “۔ (ص:۲۲۸، باب ادخار لحوم الأضاحي)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ویؤکل غنیاً ویدّخر) لقوله علیه الصلاة والسلام بعد النهي عن الإدخار: ” کلوا وأطعموا وادّخروا “۔ (۳۹۷/۹، کتاب الأضحیة)

ما في ” الهدایة “ : ویأکل من لحم الأضحیة ویطعم الأغنیاء والفقراء ویدّخر لقوله علیه السلام: ”کنت نهیتکم عن أکل لحوم الأضاحي، فکلوا منها وادّخروا “۔ ومتی جاز أکله وهو غني جاز أن یؤکل غنیًا۔ (۴۳۳/۴- ۴۳۴،کتاب الأضحیة)

اوپر تک سکرول کریں۔