تین لڑکیوں اور ایک لڑکے کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۴۰)

سوال:

ہمارے گھر میں ایک مسئلہ در پیش ہے کہ ہمارے نانا جان کا انتقال ہوگیا تھا، اور سرکار کی طرف سے ان کو پانچ لاکھ روپیہ ملاتھا، اور نانا کو تین لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے، تینوں بہنوں کو بیس بیس ہزار روپیہ دیا گیا،اور لڑکے نے باقی سب روپیہ لے لیا ، حالاں کہ بہنیں خرچ کی وجہ سے بہت پریشان ہیں،تو کیا لڑکے کا بقیہ پورا پیسہ لے لینا شرعاً درست ہے؟ نیز کھیت بھی ہے،اس میں سے بہنوں کو کچھ بھی نہیں ملا ، اور نانی کا بھی انتقال ہوچکا ہے ، نیز جھگڑا کرکے اپنا حق لینا کیسا ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

بعد تقدیم مایقدم علی الارث، آپ کے نانا کا کل ترکہ مبلغ پانچ لاکھ روپیہ (۵۰۰۰۰۰) پانچ حصوں میں تقسیم ہوکر، تینوں لڑکیوں میں سے ہر لڑکی کو ایک ایک حصہ، یعنی ایک لاکھ روپے (۱۰۰۰۰۰)،اور لڑکے کو دو حصے، یعنی دو لاکھ(۲۰۰۰۰۰)روپے از روئے شرع ملیں گے(۱)۔

اسی طرح کھیت کو بھی پانچ حصوں میں تقسیم کرکے ایک ایک حصہ ہر لڑکی کو ،اور دو حصے لڑ کے کو ملیں گے۔

آپ کے ماموں کا اپنی بہنوں کو محض ۲۰/۲۰ہزار روپیہ دینا اور باقی پوری رقم رکھ لینا، اسی طرح آپ کے نانا کے کھیت میں اپنی بہنوں کو حصہ نہ دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، کیوں کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اوپر دوسرے کے واجب حقوق ادا کرے، کسی کی کوئی حق تلفی نہ کرے، اورآخرت کے حساب وکتاب اور موٴاخذہٴ خداوندی سے ڈرتا رہے(۲)۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱)

(۲)ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾۔(سورة النساء : ۲۹)

وما في ” القرآن الکریم “ : ﴿إِنَّ اللّٰه یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُوٴَدُّوا الْأمَانَاتِ إِلٰی أَهلَها﴾ ۔ (سورة النساء : ۵۸)

ما في ” التفسیر الکبیر للرازي “ : قال الإمام فخر الدین الرازي : أمر الموٴمنین في هذه الآیة بأداء الأمانات في جمیع الأمور ، سواء کانت تلک الأمور من باب المذاهب والدیانات أو من باب الدنیا والمعاملات ۔ (۱۰۸/۴)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” المسلم أخوا المسلم، لا یخونه ، ولا یکذبه، ولا یخذله، کل المسلم علی المسلم حرام، عرضه وماله ودمه، التقوی ههنا، بحسب امرئ من الشر أن یحتقر أخاه المسلم “ ۔ هذا حدیث حسن غریب ۔

(۱۴/۲ ، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في شفقة المسلم علی المسلم، رقم: ۱۹۲۷، مشکوة المصابیح:ص/۴۲۲، کتاب الآداب، باب الشفقة والرحمة علی الخلق، رقم: ۲۵۶۴)

ما في ” کنز العمال “ : ” من قطع میراثًا فرضه اللّٰه قطع اللّٰه میراثه في الجنة “ ۔(۲۸۱/۱۰ ، کتاب الفرائض ، رقم : ۳۰۴۰۰)

ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن سعید بن زید – رضي اللّٰه عنه – قال : سمعت النبي ﷺ یقول : ” من أخذ شبرًا من الأرض ظلما ، فإنه یطوقه یوم القیامة من سبع أرضین “۔

(۳۳/۲ ، کتاب المساقات ، باب تحریم الظلم وغصب الأرض وغیرھا) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۱/۱۷ھ

اوپر تک سکرول کریں۔