تین یا اس سے زیادہ لقمے لگنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی

مسئلہ:

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امام کو تین یا تین سے زیادہ لقمے لگ جائے ، تو سجدہٴ سہو واجب ہوتا ہے، اور سجدہٴ سہو نہ کرنے کی صورت میں نماز لوٹانی چاہیے، حالانکہ اصح قول یہ ہے کہ تین یا تین سے زیادہ لقمے لگنے سے نہ نماز فاسد ہوتی ہے، اور نہ ہی سجدہٴ سہو واجب ہوتا ہے(۱)، کیوں کہ قرأت کے تکرار سے جو تاخیر کسی رکن میں ہو ، وہ موجبِ سجدہٴ سہو نہیں ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : فتحه علی إمامه فإنه لا یفسد مطلقا لفاتح وآخذ بکل حال ۔تنویر مع الدر۔ وفي الشامیة: قوله: (بکل حال) أي سواء قرأ الإمام قدر ما تجوز به الصلاة أم لا، انتقل إلی آیة أخری أم لا، تکرر الفتح أم لا، وهو الأصح ۔نهر۔

(۳۸۲/۲، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مطلب: المواضع التي لا یجب فیها رد السلام)

ما في ” البحر الرائق “ : الحاصل أن الصحیح من المذهب أن الفتح علی إمامه لا یوجب فساد صلاة أحد، لا الفاتح ولا الآخذ مطلقا في کل حال۔

(۱۰/۲، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)

(۲) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : واعلم أنه إذا شغله ذلک الشک فتفکرقدر أداء رکن ولم یشتغل حالة الشک بقراءة ولا تسبیح وجب علیه سجود السهو۔

(۵۶۱/۲۔۵۶۲، باب سجود السهو)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند: ۳۹/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔