مسئلہ:
بسا اوقات پانی کے جراثیم مارنے کے لیے ،پانی میں جراثیم کش پاوٴڈر ڈالا جاتا ہے، جس کی وجہ سے پانی میں رِقَّت اور سیلان تو باقی رہتا ہے، لیکن اس کا رنگ، بو اور مزہ میں فرق آجاتا ہے، اس طرح کے پانی سے وضو کرنا جائز ہے، کیوں کہ جب پانی میں کوئی جامد چیز مل جائے اور اسے پکائے بغیر اس کے اوصاف بدل جائیں ، تو جب تک اس میں رِقَّت اور سیلان باقی رہے،اس سے وضو کرنا جائز ہوتا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مراقي الفلاح “ : والغلبة تحصل في مخالطة الماء لشيء من الجامدات الطاهرات بإخراج الماء عن رقته، فلا ینعصر عن الثوب وإخراجه عن سیلانه فلا یسیل علی الأعضاء سیلان الماء، وأما إذا بقي علی رقته وسیلانه فإنه لا یضر أي لا یمنع جواز الوضوء به تغیر أوصافه کلها بجامد خالطه بدون طبخ کزعفران وفاکهة وورق شجر۔
(ص:۹ ، کتاب الطهارة)
ما في ” حلبي کبیر “ : الضابط عن مخالطة الأشیاء الجامدة للماء من غیر طبخ فإنه ما دام رقیقاً یسیل سریعاً کسیلانه عند عدم المخالطة فحکمه حکم الماء المطلق یجوز الوضوء به وإلا فلا، ولا عبرة بزوال اللون ولا الطعم ولا الریح۔(ص:۹۰، باب المیاه)
(فتاویٰ محمودیه:۱۲۹/۵)
