جرمانہ کی رقم اور اس کا حکم

مسئلہ:

اسکولوں اور مدرسوں میں طلباء کے چھٹیوں کے بعد تاخیر سے پہنچنے پر ان سے جرمانہ کی رقم وصول کی جاتی ہے، مالی جرمانہ جائز ہے یا نہیں ؟اس سلسلے میں ائمہٴ ثلاثہ کا اختلاف ہے، طرفین کے نزدیک جائز نہیں ہے، اور امام ابویوسف کے نزدیک جائز ہے، جبکہ جمہور علماء کے نزدیک مالی جرمانہ جائز نہیں ہے، اور یہی قول راجح اور مفتی بہ ہے(۱)، کیوں کہ مالی جرمانہ کی اجازت دینے سے ظلم کے راستے کھل جانے کا قوی اندیشہ ہے۔

لیکن اگر طلباء کے وقت پر آنے کو یقینی بنانا ہے، یا اگر جرائم کی روک تھام کرنی ہے، تو اس کے لیے یہ صورت اپنائی جاسکتی ہے کہ انتظامیہ طلباء سے ان کی رضامندی سے یہ معاہدہ کرلے کہ اگر وہ وقت پر نہ آئیں(۲)، یا انتظامیہ کا فلاں قانون توڑ دیں تو ان پر مثلاً ۱۰۰/ روپئے رفاہِ عام کیلئے صدقہ کرنا لازم ہوگا، تو اس معاہد ہ کی رو سے ۱۰۰/ روپئے لینا، اور اسے متعین مد میں صرف کرنا جائز ہوگا، کسی استاذ یا کلاس ٹیچر یا پرنسپل کیلئے اسے اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں ہے، متعین مدمیں صرف کرنا لازم ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” اعلاء السنن “ : التعزیر بالمال جائز عند أبی یوسف، وعندهما وعند الأئمة الثلاثة لایجوز، وترکه الجمهور للقرآن والسنة: وأما القرآن فقوله تعالی: ﴿فاعتدوا علیه بمثل ما اعتدی علیکم﴾۔ وأما السنة فإنه علیه السلام قضی بالضمان بالمثل ولأنه خبر یدفعه الأصول فقد أجمع العلماء علی أن من استهلک شیئاً لم یغرم إلا مثله أو قیمته۔

(۷۳۳/۱۱، باب التعزیر بالمال ، بیروت)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا بأخذ مال فی المذهب۔ ” الدر المختار “۔ قوله: (لابأس بأخذ مال) قال فی الفتح: وعن أبی یوسف: یجوز التعزیر للسلطان یأخذ المال وعندهما وباقی الأئمة لا یجوز، ومثله فی المعراج وظاهره أن ذلک روایة ضعیفة عن أبی یوسف، قال فی الشرنبلالیة: ولا یفتی بهذا لما فیه من تسلیط الظلمة علی أخذ مال الناس فیأکلونه ، لا أن یأخذه الحاکم لنفسه أو لبیت المال کما یتوهمه الظلمة، إذا لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي۔ وفی شرح الآثار: التعزیر بالمال کان فی ابتداء الإسلام ثم نسخ والحاصل أن المذهب عدم التعزیر بأخذ المال۔(۷۶/۶، کتاب الحدود، مطلب فی التعزیر بأخذ المال)

(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿وأوفوا بالعهد إن العهد کان مسوٴلا﴾۔ (سورة الإسراء: ۳۴)

ما فی ” روح المعانی “ : ﴿وأوفوا بالعهد﴾ أي ما عاهدتم الله تعالی علیه من التزام تکالیفه وعاهدتم علیه غیرکم من العباد ، ویدخل فی ذلک العقود۔ (۱۰۲/۹)

اوپر تک سکرول کریں۔