مسئلہ:
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس کا عقیقہ نہ ہواہو، اس کی قربانی درست نہیں ہوتی، یہ غلط ہے، بلکہ جو شخص قربانی کے دنوں میں صاحب نصاب ہو اس پر قربانی کرنا واجب ہوجاتا ہے، اور قربانی کرنے سے قربانی درست ہوجاتی ہے، چاہے اس کا عقیقہ ہواہو یا نہ ہوا ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وشرائطها الإسلام والیسار الذی یتعلق به وجوب صدقة الفطر۔ (۳۷۸/۹، کتاب الأضحیة)
ما فی ” مجمع الأنهر “ : الأضحیة هی واجبة علی حر مسلم مقیم موسر عن نفسه لا عن طفله۔ (۱۶۶/۴، البحر الرائق: ۳۱۸/۸، تیسیر الفقه الحنفی: ص۲۳۱)
(فتاوی رحیمیہ :۴۴/۱۰، آپ کے مسائل اور ان کا حل :۲۲۱/۴)
