مسئلہ:
بعض لوگ مصیبت یا پریشانی کے وقت ایک مہمل وظیفہ ” جلَّ تو جلال تو، آئی بَلا کو ٹال تو، قدرت ہے کمال تو، نبی جی کی جھولی بھرے ، بیچ میں ہے قرآن تو“ پڑھتے ہیں، شرعاً اِس کی کوئی اصل نہیں ہے، اس کی بجائے اندیشہ کے موقع پر﴿اَعُوْذُ بِاللّٰہِ وَقُدْرَتِه مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ واُحَاذِرُ﴾”میں اللہ کی ذات اور قدرت سے اُس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں، جس کو میں پاتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں“-پڑھنا چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” حاشیة ابن ماجة “ :”من شر ما أجد وأحاذر“تعوّذمن وجع ومکروه هوفیه وممایتوقع حصوله في المستقبل من الحزن والخوف،فإن الحذر والاحتراز عن خوف۔
(ص:۲۵۱ ، أبواب الطب، باب ما عوذ النبي ﷺ وما عُوّذ به، صحیح مسلم: ۲۲۴/۲، کتاب السلام، باب استحباب وضع یده علی موضع ألم مع الدعاء، رقم الحدیث: ۲۲۰۲، شرح صحیح مسلم اردو: ۵۷۹/۶، رقم الحدیث: ۵۶۳۲، سنن الکبری للنسائي: ۲۴۹/۶، رقم الحدیث: ۱۰۸۳۹)
(فتاویٰ عثمانی: ۲۶۲/۱)
