جماعت کا ایک ہی علاقہ میں کام کی صورت میں نماز کا حکم

مسئلہ:

جو جماعتیں مسافتِ شرعی یعنی ستہتر(۷۷) کلو میٹر ۲۴۸؍ میٹر،۵۱؍ سینٹی میٹڑ،۲؍ملی میٹر،یعنی تقریباًساڑھے ستہتر کلو میٹرطے کر کے کسی مقام پر پہونچے، اور ذمہ دارانِ مرکز نے ان کے پہونچتے ہی بتلادیا کہ آپ حضرات کوپندرہ دن یا اس سے زیادہ یہیں رہ کر کام کر ناہے، اور جماعت کے ہر ساتھی نے وہاں پندرہ روز ٹھہر نے کی نیت کی، تواب یہ جماعت نماز پور ی پڑھے گی قصر نہیں کریگی، اگر چہ یہ احتمال ہو کہ پندرہ دن سے کم پر ہی یہاں سے کسی اور مقام پر بھیج دیا جاسکتاہے ۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’السنن للترمذي‘‘: عن ابن عمر رضي الله عنه أنه قال: ’’ من أقام خمسة عشر یوماً أتم الصلاة ‘‘۔ ( ۴۰۵/۱، دار الکتب العلمیة بیروت)

ما في ’’الھدایة‘‘: ولا یزال حکم السفر حتی ینوي الإقامة في بلدة أو قریة خمسة عشریوماً أو أکثر ۔ (۱۴۶/۱)

ما في ’’الفتاوی الھندیة‘‘: والجندي إنما یکون تبعاً للأمیر إذا کان یرزق من الأمیر أما إذا کانت أرزاقھم من أموال أنفسھم فالعبرة لنیتھم۔ (۱۴۱/۱)

ما في ’’ الفتاوی الهندیة ‘‘: ویکفي ذلک القصد غلبة الظن یعني إذا غلب علی ظنه أنه یسافر قصر ولا یشترط فیه التیقین ۔ (۱۳۹/۱)

ما في ’’جمهرة القواعد الفقهیة‘‘: ’’ العمل بغالب الرأي في الأحکام واجب  ‘‘۔( رقم القاعدة :۱۲۸۵)

ما في ’’المحیط البرھاني‘‘: السفر یبطل بالإقامة فنقول مدة السفر الإقامة عندنا خمسة عشر یوماً ۔ (۱۲۸/۲)

ما في ’’ردالمحتار علی الدرالمختار‘‘: الرجل القاصد علی الحج علی أن القافلة إنما تخرج بعد خمسة عشر یوماًً وعزم أن لا یخرج إلا معھم وإنما کان ذلک نیة للإقامة حکماًً لا حقیقة لأنه نوی الخروج بعد خمسة عشر یوماً وھي متضمنة نیة الإقامة ۔ تأمل ۔ (۵۲۹/۲، باب صلاة المسافر)

اوپر تک سکرول کریں۔