مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر میت بحالتِ جنابت یا بحالتِ حیض ونفاس ہو ، تو اس کو دو مرتبہ غسل دیا جائے گا، اُن کا یہ خیال درست نہیں ہے، کیوں کہ صحیح بات یہ ہے کہ جنبی شخص اور حیض ونفاس والی عورت کو بھی ایک ہی مرتبہ غسل دیا جائے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” موسوعة مسائل الجمهور “ : جمهور العلماء علی أن الجنب والحائض إذا ماتا غسلا غسلاً واحدًا۔ (۲۴۵/۱، أبواب غسل المیت)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو کان جنبًا أو حائضًا أو نفساء فعلاً اتفاقًا تتمیمًا للطهارة کما في إمداد الفتاح ۔ (۸۲/۳، باب صلاة الجنازة، مطلب في القراءة عند المیت)
(فتاوی دار العلوم :۲۴۵/۵)
