جوائنٹ فیملی کا ایک سنگین مسئلہ

مسئلہ:

آج کل جوائنٹ فیملی کا ایک سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ گھر کا کوئی ایک فرد کماتا ہے، اور دیگر تمام افراد باوجود اس کے کہ اُن کو کوئی عذر نہیں ہوتا، اور نہ وہ بیمار ہوتے ہیں، کام نہیں کرتے، اور اُن کی کَفالت کا ذمہ دار یہی ایک فرد ہوتا ہے، جو گھر کے تمام اخراجات برداشت کرتا ہے، اور جوائنٹ فیملی ہونے کی وجہ سے وہ کسی سے کچھ نہیں کہتا، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ کی تعلیم یہ ہے کہ ہر فرد خود کفیل بنے، اپنے اخراجات خود برداشت کرے، خوامخواہ کسی پر بوجھ نہ بنے، کیوں کہ بلا عذرِ شرعی دوسرے کی کمائی پر گذر بسر کرنا بے غیرتی کی بات ہے، نیز اس طرح کی کاہلی وسُستی سے جناب نبی کریم ﷺ نے پناہ مانگی ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عائشة قالت: قال النبي ﷺ: ” إنّ أطیب ما أکلتم من کسبکم، وإنّ أولادکم من کسبکم “۔ رواه الترمذي والنسائي وابن ماجة۔

(ص:۲۴۲، باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الثاني)

وفیه أیضًا : عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: ” طلب کسب الحلال فریضة بعد الفریضة “۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان۔

(ص:۲۴۲ ، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الثالث)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : ثم الکسب بقدر الکفایة واجب لنفسه وعیاله عند عامة العلماء۔ (۵/۶، تحت رقم الحدیث:۲۷۵۹)

ما في ” الهدایة “ :فالأصل أن نفقةالإنسان في مال نفسه صغیرًاکان أوکبیرًا۔(۴۴۵/۲،کتاب الطلاق،باب النفقة،قبیل فصل في من یجب النفقة ومن لایجب)

ما في ” صحیح مسلم “ : عن أنس بن مالک قال: کان رسول الله ﷺ یقول: ”اللهم إني أعوذبک من العجز والکسل والجبن والهرم والبخل، وأعوذبک من عذاب القبر ومن فتنة المحیا والممات“۔ (۳۴۷/۲، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب الدعوات والتعوّذ، رقم الحدیث:۲۷۰۶)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۵۱۵۲۹)

اوپر تک سکرول کریں۔