مسئلہ:
اگرکوئی شخص قیا م پر قادر ہے مگر رکوع و سجدہ پر قادر نہیں تو اس کے حق میں قیام سا قط ہوگا (۱)،وہ بیٹھ کر اپنے سر سے رکوع وسجدہ کیلئے اشارہ کرکے نما ز پڑھے اوریہی اس کے لئے افضل ہے (۲)، کیو نکہ یہ حالت اشبہ با لسجود ہے، لیکن اگر وہ کھڑے ہوکر اشارہ سے رکوع وسجدہ کرکے نماز پڑھے تو یہ بھی جائز ہے (۳)،البتہ اشارۂ سجودکو اشارۂ رکوع سے بہر صورت ذرا پست رکھے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا
(۱) ما في ’’نصب الرایة‘‘: قال علیه الصلاة والسلام: ’’ إن قدرت أن تسجد علی الأرض وإلا أومي برأسک‘‘۔ (۱۷۸/۲، السنن الکبری للبیهقي: رقم الحدیث:۳۶۶۹)
ما في ’’المبسوط‘‘: وإنما إذا کان قادراً علی القیا م وعاجزاً عن الرکوع والسجود فإنه یصلي قاعداً بإیماء وسقط عنه القیام۔ (۲۰۵/۱ ، باب صلاة المر یض)
(۲) ما في ’’البحرالرائق‘‘: وإن تعذر الرکوع والسجود لا القیام أومأ قاعداً ۔۔۔۔۔۔۔ والأفضل هو الإیماء قاعداً لأنه أشبه بالسجود۔ (۲۰۵/۲)
وما في ’’فتح القدیر‘‘: وإن قدر علی القیام ولم یقدرعلی الرکوع والسجود لم یلزمه القیام ویصلي قاعداً یؤمي إیماء والأفضل هو الإیماء قاعداً لأنه أشبه بالسجود۔
(۶/۲، باب صلاة المریض)
(۳) ما في ’’الجو هرة النیرة‘‘: فإن قدر علی القیام ولم یقدر علی الرکوع والسجود لم یلزمه القیام ویصلي قاعداً یومي إیماء فإن أومأ قائماً جاز۔ (۲۰۵/۱، باب صلاة المریض)
(۴) ما في ’’مجمع الزوائد‘‘: عن جابر أن النبي ﷺ عاد مریضاً فرآه یصلي علی وسادة فأخذھا فرمی بھا فأخذ عوداً لیصلي علیه فأخذه فرمی به وقال: ’’صلّ علی الأرض إن استطعت وإلا فأومي إیمائً واجعل سجودک أخفض من رکوعک‘‘۔(۱۴۸/۲، بحواله نصب الرایة :۱۷۸/۲)
ما في ’’مراقي الفلاح مع حاشیة الطحطاوي‘‘: وإن تعذر الرکوع والسجود وقدر علی القعود ولو مستنداً صلی قاعداً بالإیماء للرکوع والسجود برأ سه وجعل إیمائه للسجود أخفض من إیمائه للرکوع ۔ (ص:۴۳۱)
