جھگڑے میں ”تین طلاق اور سات طلاق دیا“کہا!

(فتویٰ نمبر: ۱۷۸)

سوال:

زید نے اپنی بیوی کو آپسی جھگڑے کے درمیان یہ کہہ دیا کہ ”تجھ کو چھوڑ دوں گا“، بعدہ آپس میں تو تو میں میں ہوئی، پھر زید نے ”تین طلاق اور سات طلاق “کہا،نیز دونوں کے مابین پھر لڑائی ہوئی تو دوبارہ زید نے ایسا کہا کہ میں نے” تین طلاق سات طلاق دیا“، لفظ”دیا“ کے اضافہ کے ساتھ ،پھر زیدنے اپنی بیوی کو کہا کہ ایسا کرنا اچھا نہیں ہے، تو کیا: مذکورہ صورت میں زید کی بیوی اس کے نکاح میں رہے گی یا نہیں؟ اگر نہیں رہی تو اسے دوبارہ نکاح میں لانے کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں تین طلاق واقع ہوگئی، اب ساتھ رہنے کی صورت یہ ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے ،اور شوہرِ ثانی دخول کے بعد اس کو طلاق دیدے ،یا اس کا انتقال ہوجائے،اور شوہرِ ثانی کی عدتِ طلاق یا عدتِ وفات گزرجائے ،تو شوہرِ اول دوبارہ نکاحِ جدید بمہرِ جدید کرسکتا ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتی تنکح زوجًا غیره﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۳۰)

ما في ” سنن الدار قطني “ : عن الحسن قال : حدثنا عبد اللّٰه بن عمر ۔۔۔۔۔۔۔۔ فقلت یا رسول اللّٰه ! رأیت لو أني طلقتها ثلاثًا کان یحل لي أن أراجعها ؟ قال : ” لا ، کانت تبین منک وتکون معصیة “ ۔(۲۱/۴ ، کتاب الطلاق ، رقم : ۳۹۲۹ ، ط : دار الإیمان سهارنفور)

ما في ” مجمع البحر ین وملتقی النیرین “ : وإن أوقع ثنتین أو ثلاثاً دفعةً ، أو في طهر واحد وقع ، ونجعله بدعة ۔ (ص/۵۵۰)

ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : والبدعة أن یطلقها ثلاثاً أو ثنتین بکلمةٍ واحدةٍ ، أو في طهر لا رجعة فیها أو یطلقها وهي حائض فیقع وکان عاصیًا ۔ (۱۵۲/۲)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإن کان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ۔ (۴۷۳/۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۶ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔