جھینگے کا شرعی حکم کیا ہے؟

مسئلہ:

جھینگے کو عربی زبان میں ” رُوبِیان“ یا ” اِرْ بِیَانْ“ کہا جاتا ہے، اور انگریزی میں ” Shrimp“ یا ”Prawn“ کہتے ہیں، ائمہ ثلاثہ (امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کے نزدیک جھینگے کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہیں، کیوں کہ اُن کے ہاں کچھ استثنائی جانوروں کے علاوہ تمام سمندری جانور حلال ہیں، فقہاء احناف کے نزدیک سمندری جانوروں میں سے جو مچھلی یعنی سمک کی تعریف میں داخل ہے وہ حلال ہے، البتہ جھینگے کی حلت میں اختلاف ہے، جن حضرات نے ماہرین لغت کی تحقیق کے مطابق اُسے مچھلی میں شمار کیا ہے اُن کے ہاں اس کا کھانا حلال ہے، اور جن حضرات نے ماہرین حیوانات کی رائے کو مانتے ہوئے اسے مچھلی کی تعریف سے خارج کردیا ہے، انہوں نے اس کے کھانے کو ممنوع قرار دیا ہے، البتہ جواز کا قول راجح معلوم ہوتا ہے، کہ اس قسم کے مسائل میں شریعت کا مزاج یہ ہے کہ وہ لوگوں کے عرفِ عام کا اعتبار کرتا ہے، فنی باریکیوں کو نہیں دیکھتا، اس لیے جھینگے کے مسئلے میں سختی کرنا مناسب نہیں، بالخصوص جب کہ بنیادی طور پر یہ مسئلہ اجتہادی ہے کہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک جھینگے کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہیں، نیز کسی مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف تخفیف کا باعث ہوتا ہے، تاہم اس کے کھانے سے اجتناب کرنا زیادہ مناسب ، زیادہ احوط اور زیادہ اَولیٰ ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” حیاة الحیوان للدمیري “ : الروبیان هو سمک صغیر جدًا أحمر۔ (۳۵۳/۱)

ما في ” تکملة فتح الملهم “ : وأما الروبیان أو الإربیان الذي یسمی في اللغة المصریة ” جمبري “ وفي اللغة الأردیة ” جھینگا “ وفي الإنکلیزیة ” Shrimp “ أو ” Prawn “ فلا شک في حلته عند الأئمة الثلاثة، لأن جمیع حیوانات البحر حلال عندهم، وأما عند الحنفیة فیتوقف جوازه علی أنه سمک أو لا، فذکر غیر واحد من أهل اللغة أنه نوع من السمک، ۔۔۔۔ ولکن خبراء علم الحیوان الیوم لا یعتبرونه سمکًا، ویذکرونه کنوع مستقل، ویقولون: إنه من أسرة السرطان دون السمک، ۔۔۔۔۔ فمن أخذ بحقیقة الإربیان حسب علم الحیوان قال بمنع أکله عند الحنفیة، ومن أخذ بعرف أهل الرب قال بجوازه وربما یرجح هذا القول بأن المعهود من الشریعة في أمثال هذه المسائل الرجوع إلی العرف المتفاهم بین الناس، دون التدقیق في الأبحاث النظریة ، فلا ینبغي التشدید في مسألة الإربیان عند الإفتاء، ولا سیما في حالة کون المسألة مجتهدا فیها من أصلها، ولا شک أنه حلال عند الأئمة الثلاثة، وإن اختلاف الفقهاء یورث التخفیف کما تقرر في محله، غیر أن الاجتناب عن أکله أحوط وأولی وأحری، والله سبحانه وتعالی أعلم ۔

(۵۱۳/۳-۵۱۴، کتاب الصید والذبائح، مسألة الروبیان)

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (ولا) یحل (حیوان مائي إلا السمک) ۔۔۔ (وحل الجراد) وإن مات حتف أنفه، بخلاف السمک (وأنواع السمک بلا ذکاة) لحدیث: ” أحلت لنا میتتان؛ السمک والجراد “۔(۴۴۴/۹-۴۴۶، کتاب الذبائح)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: ” أحلت لنا میتتان ودمان: الحوت والجراد، والدمان: الکبد والطحال “۔ رواه أحمد وابن ماجة والدار قطني۔ (ص:۳۶۱، کتاب الصید والذبائح، باب ما یحل أکله وما یحرم، الفصل الثاني، رقم الحدیث: ۴۱۳۲)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي الحوراء السعدي قال: قلتُ للحسن بن علي: ما حفظتَ من رسول الله ﷺ؟ قال: حفظتُ من رسول الله ﷺ: ” دع ما یُریبک إلی ما لا یریبک “۔ الحدیث۔(۳۹۰/۳، کتاب صفة القیامة والرقائق والورع، رقم الحدیث: ۲۵۱۸)

(فقہی مقالات :۲۱۵/۳ ، امداد الفتاویٰ : ۱۰۳/۴۔۱۰۴ ، فتاویٰ محمودیہ : ۱۹۴/۲۷)

( فتاویٰ رحیمیہ : ۷۷/۱۰ ، فتاویٰ بنوریہ ، رقم الفتویٰ : ۱۰۰۳۲)

اوپر تک سکرول کریں۔