(فتویٰ نمبر: ۲۱۳)
سوال:
ہندوستان سے حج کے لیے جانے والے حجاجِ کرام دو طریقے سے جاتے ہیں:
(۱)حج کمیٹی(Haj Committee) کے ذریعے۔
(۲)پرائیویٹ ٹور(Private tour) کے ذریعے۔
حج کمیٹی (Haj Committee)کا ایک لائحہٴ عمل ہے کہ و ہ حج کی درخواست دہندگان کے ناموں کی قرعہ اندازی کرتی ہے، جن لوگوں کا نام نکل آتا ہے اُن کو حج کے لیے لے جایا جاتا ہے، اور وہ جس درجے کا پیسہ بھرتے ہیں اسی درجے میں جاتے اورآتے ہیں۔
رہے پرائیویٹ ٹورس(Private tours) تو ان کا اپنا ایک ادارہ ہے، جس کے ذریعے وہ حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے حج سیل سے حج کا ایک کوٹا حاصل کرتے ہیں، ان میں سے بعض ٹور (Tour) والے حاجیوں کو حج کے لیے لے جاتے ہیں، اور بعض اپنے حاصل کردہ حج کوٹے (Haj visa) کو ایسے ٹور والوں کو فروخت کرتے ہیں، جن کے پاس حج کوٹا نہیں ہے ، یا ہے مگر اس ٹور سے جانے کے خواہش مند زیادہ ہیں اور کوٹا کم۔
توکیا حج کے ویزوں کی خرید وفروخت جائز ہے؟ جب کہ یہ نہ تو مال ہے اور نہ ہی حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کا حج سیل ان ویزوں کے جاری کرنے پر ان ٹور والوں سے کوئی رقم لیتا ہے، صرف دولاکھ زرِ ضمانت جمع کیا جاتاہے، اور وہ بھی بعد میں واپس کیا جاتا ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
کسی بھی چیز کی خرید وفروخت کے جواز کے لیے اس کا مال ہونا ضروری ہے (۱)، اور ما ل وہی شی ٴ ہوگی جو مادی ہو یا مادی سے متعلق ہو، جب کہ حج کے ویزے شی ٴ مادّی ہیں اور نہ ہی شی ٴ ما دی سے متعلق ہیں، اس لیے ان کی خرید وفروخت ناجائز وحرام ہے۔(۲)
خصوصاً اس صورت میں کہ حکومتِ سعودی اور حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کا حج سیل ان کے جاری کرنے پر کوئی عوض نہ لیتا ہو، اور جو رقم لی جاتی ہے اس کی حیثیت محض زرِ ضمانت کی ہو، بعد میں واپس مل جاتی ہو، اور حج کے ویزوں کی خرید وفروخت کو جائز قرار دینے کی صورت میں وہ لوگ جن کے پیشِ نظر محض دنیا ہے، اسے ظلم کی حد تک نفع بخش کاروبار بناکر عام مسلمانوں کے لیے حج جیسی عظیم عبادت کی ادائیگی مشکل بنادے ، اس کو غلط طریقے سے مسلمانوں کے اموال کھانے کا ذریعہ بنائے(۳)، اور دل کھول کر مقاصد ومصالحِ شرعیہ کی مخالفت کرے(۴)، جیسا کہ آج کل اس کا مشاہدہ ہے۔
بیعِ حقوق کے حوالے سے اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان ہی حقوق کی بیع جائز ہوتی ہے، جو اصالةً ثابت بھی ہو ں، ان سے مالی منفعت متعلق ہو(۵)، عرف میں ان کا عوض لینا مروج ومعروف ہوچکا ہو(۶)، ان کی حیثیت دفعِ ضرر کی نہ ہو، اور وہ شریعت کے عمومی مقاصد ومصالح سے متصادم نہ ہوں(۷)، جب کہ حج ویزا میں یہ تمام باتیں نہیں پائی جاتیں، بلکہ ان کی خرید وفروخت کو جائز قرار دینے سے بہت سے مفاسد اور خرابیاں وجود میں آسکتی ہیں،حالانکہ شرعِ اسلامی کا مزاج ومذاق یہ ہے کہ وہ معاصی ومفاسدکے ذرائع ووسائل کو بھی ممنوع قرار دیتی ہے (۸)؛ اس لیے حج ویزا کی خرید وفروخت کو شرعاً جائز نہیں کہا جا سکتا۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” ردالمحتار “ : البیع في الشرع : مبادلة المال بالمال بالتراضي ۔ (۱۳/۷ ، کتاب البیوع ، مطلب : القبول قد یکون بالفعل)
(۲) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : المال : ما یمیل إلیه الطبع ، ویمکن ادخاره لوقت الحاجة ۔(۳۱/۳۶)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : والمال ما یمیل إلیه الطبع ویجري فیه البذل والمنع، فما لیس بمال لیس محلاً للمبادلة بعوض ، والعبرة بالمالیة في نظر الشرع ۔ (۱۵/۹)
ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “ : حصر الحنفیة معنی المال في الأشیاء أو الأعیان المادیة ، أي التي لها مادة وجرم محسوس ، وأما المنافع والحقوق فلیست أموالا عندهم هي ملک لا مال ۔ (۲۸۷۷/۴)
ما في ” بدائع الصنائع “ : والثالث : أن یکون حقًا ثابتًا له في المحل ، فما لا یکون حقًا له أو لا یکون حقًا ثابتًا له في المحل لا یجوز الصلح عنه ، ولأن الصلح إما إسقاط أو معاوضة ۔ (۴۹/۶ ، کتاب الصلح ، فصل أما الذي یرجع إلی المصالح منه فأنواع)
(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾۔(سورة النساء : ۲۹)
ما في ” جمع الجوامع “ : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” ألا ! لا یحل مال امرئٍ مسلم إلا بطیب نفسه “ ۔
(۷/۹ ، رقم : ۲۶۷۵۹ ، سنن الدار قطني : ۲۲/۳ ، کتاب البیوع ، رقم : ۲۸۶۲)
(۴) ما في ” الموافقات للشاطبي “ : مجموع الضروریات خمسة : وهي حفظ الدین والنفس والنسل والمال والعقل ، وقد قالوا : إنها مراعاة في کل ملة ۔ (ص/۳۲۶)
ما في ” حاشیة الموافقات “ : قال في ” شرح التحریر “: حصر المقاصد في هذه الخمسة ثابت بالنظر للواقع وعادات الملل والشرائع بالاستقراء ۔ (ص/۳۲۶)
(۵) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : إن الحق إذا کان مجردًا عن الملک فإنه لا یجوز الاعتیاض عنه ، وإن کان حقًا متقررًا في المحل الذي تعلق به صح الاعتیاض عنه ۔وفرق البعض الآخر من الحنفیة : إن الحق إذا کان شرع لدفع الضرر فلا یجوز الاعتیاض عنه ،وإذا کانت ثبت علی وجه البر والصلة فیکون ثابتًا له إصالة ، فیصح الاعتیاض عنه۔
(۲۴۳/۴)
(۶) ما في ” رد المحتار “ : اعلم أن کلاً من العرف العام والخاص إنما یعتبر إذا کان شائعًا بین أهله یعرفه جمیعهم ، فکل منهما لا یکون عامًا تبنی الأحکام علیه حتی یکون شائعًا مستفیضًا بین جمیع أهله ۔(۱۳۴/۲)
(۷) جو حقوق نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہوں البتہ ان سے مالی منفعت متعلق ہوگئی، اور عرف میں ان کا عوض لینا مروج اور معروف ہوچکا ہو، نیز ان کی حیثیت محض دفعِ ضرر کی نہ ہو، اور وه شریعت کے عمومی مقاصد ومصالح سے متصادم نہ ہوں، ایسے حقوق پرعوض حاصل کرنا جائز اور درست ہے۔ (قرارداد اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، بحوالہ جدید فقهی مباحث:۶۸۸/۳)
(۸) ما في ” المقاصد الشرعیة للخادمي “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرمًا وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبًا ۔ (ص/۴۶)
ما في ” موسوعة قواعد الفقهیة “ : ” ما أفضی إلی الحرام کان حرامًا “ ۔ (۴۲/۹)
ما في ” رد المحتار “ : ” ما کان سببًا لمحظور فهو محظور “ ۔ (۲۳۳/۵ ، ط : مکتبه نعمانیه دیوبند)
ما في ” بدائع “ : ”ما أدی إلی الحرام فهو حرام “ ۔ (۶۶۸/۱)
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۴/۲۶ھ
