مسئلہ:
حمد ونعت کے اشعار قوالی کے نام پر ڈھول تاشے اور سارنگی کی آوازوں پر گانا اور انہیں عبادت سمجھنا قبیح ترین بدعات ومنکرات میں داخل ہے، کیوں کہ احادیثِ شریفہ میں گانے بجانے کی سخت مذمت وارد ہے(۱)،زمانہٴ قدیم میں یہ بدعت اکثر مزارات پر عرس کے موقع پر انجام دی جاتی تھی، مگر جب سے نئے الکٹرانک آلات : موبائل، ٹیپ ریکارڈ اورگراموفون ایجاد ہوئے، یہ چیز بہت عام ہوگئی، اور اُسے قطعاً برا نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ عام گانوں کے مقابلہ میں مذہبی اشعار کی قوالیاں اور زیادہ خطرناک ہیں، اس لیے کہ ان میں اللہ اور رسول کا نام میوزک کے ساتھ لیا جاتا ہے، جو اللہ اور رسول کے احکام کے ساتھ بھونڈے مزاق کا مظاہرہ کرنے کے مرادف ہے، جسے کوئی غیر تمند مسلمان ہرگز برداشت نہیں کرسکتا، فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان صاحب ( جو اہلِ بدعت کے نزدیک انتہائی قابلِ احترام ہیں) فرماتے ہیں: ” قوالی حرام ہے، حاضرین سب گنہگار ہیں، اور ان سب کا گناہ عرس کرنے والوں اور قوالوں پر ہے، مگر اس سے حاضرین کے گناہ میں کوئی تخفیف نہیں ہوگی، بلکہ ہر ایک پر اپنا پورا گناہ ہوگا“(۲)، لہٰذا قوالی کا انتظام ، اس میں حاضری یا موبائل وغیرہ میں اسے ڈاوٴن لوڈ کرکے سنناشرعاً ناجائز ومنع ہے(۳)، اس لیے ایسے ناجائز کام سے خود بھی بچیں ، اور دوسروں کو بچانے کا فرض بھی انجام دیں۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الترغیب والترهیب “ : عن أنس بن مالک رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ” صوتان ملعونان في الدنیا والآخرة؛ مزمار عند نعمة ورَنَّةٌ عند مصیبة “۔ رواه البزّار، ورواته ثقات۔ (۳۵۰/۴، الترهیب من النیاحة علی المیت والنعی ولطم الخد وخمش الوجه وشق الجیب)
ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : عن أنس بن مالک قال: قال رسول الله ﷺ: ” من جلس إلی قینة یسمع منها صُبّ في أذنه الآنک یوم القیامة “۔
(۵۳/۱۴، سورة لقمان: ۶)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ: ” الغناء ینبت النفاق في القلب کما ینبت الماء الزّرع “۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان۔
(ص:۴۱۱، کتاب الأدب، باب البیان والشع ، الفصل الثالث)
(۲) ما في ” احکام شریعت “ : (۶۱/۱ ، مصنفہ احمد رضا خان صاحب فاضل بریلوی ، مکتبہ فرید بکڈپو دہلی)
(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قلت: وفي البزازیة: استماع صوت الملاهي کضرب قصب ونحوه حرام لقوله علیه الصلاة والسلام: ” استماع الملاهي معصیةٌ، والجلوس علیها فسقٌ، والتلذّذ بها کفرٌ “ أي بالنعمة ، فصرف الجوارح إلی غیر ما خلق لأجله کفر بالنعمة لا شکر، فالواجب کل الواجب أن یجتنب کي لا یسمع، لما روي أنه علیه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه ۔ الدر المختار ۔ قال ابن عابدین الشامي رحمه الله: فما ظنک به عند الغناء الذي یسمونه وجدًا ومحبة، فإنه مکروه لا أصل له في الدین ۔۔۔۔ وما یفعله متصوفة زماننا حرام لا یجوز القصد والجلوس إلیه۔(ص:۴۲۵۔۴۲۶، کتاب الحظر والإباحة، فبیل فصل في اللبس)
