مسئلہ:
بعض حضرات ایسے مصلے پر نماز پڑھنے کو ناجائز کہتے ہیں، جن میں کعبة اللہ ، مسجدِ نبوی ا اور روضہٴ اقدس وغیرہ کی تصویریں ہوتی ہیں، جب کہ اس قسم کے مصلے پر مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر نماز پڑھنا جائز ہے :
۱-جائے نماز پر غیر ذی روح شیٴ کی تصویر کا ہونا مانع صلاة نہیں، اور نہ اس سے کوئی کراہت لازم آتی ہے ۔ (۱)
۲-عین کعبہ یا اس کی دیواروں پر نماز پڑھنا جائز ہے، تو اس کی تصویر پرنماز پڑھنا جائز ہوگا ۔ (۲)
۳-نماز پڑھنے کے دوران ان تصاویر پر سر رکھا جاتا ہے، پاوٴں نہیں، اور اس میں تعظیم ہے توہین نہیں ۔
۴-تصویر کا حکم عین شیٴ کا حکم نہیں ہے ، تاہم اس طرح کے مصلوں پر نماز پڑھتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ان تصاویر پر پاوٴں نہ آئے، تاکہ بے ادبی کا شبہ پیدا نہ ہو، ورنہ یہ عمل مکروہِ تنزیہی ہوگا۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” حلبی کبیر “ : وأما صورة غیر ذی روح فلا خلاف فی عدم کراهة الصلاة علیها أو إلیها۔(ص/۳۵۹،فصل فی کراهة الصلاة، الدر المختار مع الشامیة:۲/۳۶۱)
ما فی ” البحر الرائق “ : وکره عبثه بثوبه وبدنه ۔۔۔۔۔۔ وأن یکون فوق رأسه أو بین یدیه أو بحذائه صورة إلا أن تکون صغیرة أو لغیر ذی روح ، فإن غیر ذی روح لا یکره کالشجر ۔(۴۸/۲ ، باب ما یفسد الصلوٰة ، تبیین الحقائق :۴۱۵/۱)
(۲) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولو صلی فی جوف الکعبة أو علی سطحها جاز إلی أی جهة توجه ، ولو صلی علی جدار الکعبة ، فإن کان وجهه إلی سطح الکعبة یجوز وإلا فلا ۔ (۶۳/۱ ، الفصل الثالث فی استقبال القبلة ، الدر المختار مع الشامیة :۱۵۶/۲، الصلاة فی الکعبة ، مجمع الأنهر :۲۸۱/۱)
(۳) ما فی ” مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي “ : (صح فرض ونفل فیها) أی فی داخلها إلی أی جزء منها توجه ، بقوله تعالی :﴿أن طهرا بیت﴾ الآیة ، لأن الأمر بالتطهیر للصلاة فیه ظاهر في صحتها فیه ، وکذا صح فرض ونفل فوقها وإن لم یتخذ مصلیهما سترة لما ذکرنا ، لکنه مکروه له الصلاة فوقها لإساء ة الأدب باستعلائه علیها وترک تعظیمها ۔ (ص/۱۶۱ ، باب الصلاة فی الکعبة)
(فتاوی محمودیه :۶۷۰/۶)
