ختمِ قرآن پر شیرینی کی تقسیم

مسئلہ:

بسا اوقات میت کے گھر والے اپنے مکان پر مدرسہ کے طلباء یا عام مسلمانوں کو قرآن خوانی کی دعوت دیتے ہیں، اور تمام لوگ اجتماعی قرآن خوانی کے ذریعہ میت کیلئے ایصال ثواب کرتے ہیں، بعدہ اہل میت ان قرآن خوانی کرنے والوں کو کھانا کھلاتے ہیں، یا چائے وشیرینی وغیرہ سے ان کی ضیافت کرتے ہیں، اس طرح اہتمام کے ساتھ قرآن خوانی کرنا شرعاً ثابت نہیں ہے، البتہ انفرادی طور پر قرآن کریم پڑھ کر ایصالِ ثواب میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اسی طرح کھانا کھلانا ، چائے وشیرینی سے ضیافت کرنا صورةً معاوضہ ہے، اس لیے اس سے بھی بچنا چاہیے ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الشامیة “ : قال تاج الشریعة فی شرح الهدایة : إن القراء ة بالأجرة لا یستحق الثواب لا للمیت ولا للقارئ ، وقال العینی فی شرح الهدایة : ومنع القاری للدنیا ، والآخذ والمعطی آثمان ، فالحاصل : فإذا لم یکن للقارئ ثواب لعدم النیة الصحیحة ، فأین یصل الثواب إلی المستأجر ، ولولا الأجرة لما قرأ أحد لأحد فی هذا الزمان ۔

(۶۶/۹ ، تحریم مهم فی عدم جواز الاستیجار علی التلاوة)

ما فی ” الفتاوی البزازیة “ : ویکره إتخاذ الدعوة بقراء ة القرآن ، وجمع الصلحاء والقراء للختم ۔ (۷۸/۱ ، الباب الخامس والعشرون فی الجنائز)

(فتاوی محمودیه :۸۵/۳، فتاوی رحیمیه:۱۱۶/۲، احسن الفتاوی :۳۷۵/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔