مسئلہ:
ختنہ سنتِ ابراہیمی اور شعائرِ اسلام میں سے ہے(۱)، بلوغ سے پہلے پہلے جب بھی بچہ میں تحمل کی طاقت ہو ختنہ کرادینا چاہیے، حضرت امام اعظم رحمہ اللہ سے اس کے وقت کے متعلق کوئی روایت منقول نہیں ہے، البتہ بعض فقہاء کرام نے سات سال اور بعض نے نوسال کا وقت تجویز کیا ہے، اگر کوئی شخص بالغ ہوگیا اور اس کی ختنہ نہیں کی گئی، یا کوئی عمر دراز شخص اسلام میں داخل ہوگیا، تو اگر اس میں ختنہ کرانے کی قوتِ برداشت ہو، تو ختنہ کرادینا بہتر ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی”۸۰“ سال کی عمر میں اپنی ختنہ کی تھی، لیکن اگر برداشت کی قوت نہ ہو ، تواس کو اسی طرح چھوڑ دیا جائے گا، مجبور نہیں کیا جائیگا۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مجمع الأنهر “ : والختان سنة وهو من شعائر الإسلام وخصائصه ۔۔۔۔ (ووقت الختان غیر معلوم) عند الإمام فإنه قال: لا علم لي بوقته، ولم یرو عنهما فیه شيء، (وقیل سبع سنین) ۔۔۔۔ وقیل أقصاه اثني عشرة سنة، وقیل تسع سنین، وقیل وقته عشر سنین ۔۔۔ وقیل إن کان قویاً یطیق ألم الختان ختن وإلا فلا، وهو أشبه بالفقه۔
(۴۹۰/۴۔۴۹۱، کتاب الخنثی، مسائل شتی، بیروت)
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : (صبيّ حشفته ظاهرة بحیث لو رآه انسان ظنّه مختوناً ولا تقع جلدة ذکره إلا بتشدید ألمه ترک علی حاله کشیخ أسلم، وقال أهل النظر: لا یطیق الختان) ترک أیضاً ۔۔۔۔۔۔ (و) الأصل أن (الختان سنة) کما جاء في الخبر (وهو من شعائر الإسلام) وخصائصه ۔۔۔۔۔ (ووقته) غیر معلوم، وقیل (سبع) سنین۔ کذا في الملتقی۔ وقیل عشر، وقیل أقصاه اثنتا عشرة سنة، وقیل العبرة بطاقته، وهو الأشبه، وقال أبوحنیفة: لا علم لي بوقته، ولم یرد عنهما فیه شيء، فلذا اختلف المشایخ فیه۔ (۴۸۰/۱۰۔۴۸۱، کتاب الخنثی، مسائل شتی، بیروت، کذا في البحر الرائق: ۳۵۹/۹، کتاب الخنثی، مسائل شتی، الفتاوی الهندیة: ۴۴۵/۶، کتاب الخنثی، مسائل شتی)
(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي هریرة قال: قال رسول الله ﷺ: ” اختتن ابراهیمُ النبيّ وهو ابن ثمانین سنة بالقَدوم “۔ متفق علیه۔
(ص:۵۰۶، باب بدء الخلق وذکر الأنبیاء علیهم السلام، قدیمي)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (۔۔۔۔ اختتن إبراهیم النبي) أي نفسه علیه الصلاة والسلام۔(۳۷۰/۱۰، رقم الحدیث : ۵۷۰۳)
(فتاویٰ محمودیه:۱۷۲/۲۸-۱۷۴، مکتبه محمودیه میرٹھ)
