خرید وفروخت میں زیادہ سے زیادہ نفع کی حد

مسئلہ:

خرید وفروخت میں زیادہ سے زیادہ نفع لینے کی شرعاً کوئی حد مقرر نہیں(۱)، فریقین کی باہمی رضامندی سے تھوڑا یا زیادہ لینے کی گنجائش ہے(۲)، البتہ اتنا زیادہ نفع لینا جو عام مارکیٹ کے تاجروں کی نظر میں زیادہ بنتا ہو، غبنِ فاحش(زبردست دغابازی) کہلاتا ہے، اور یہ خریدار کو بتلائے بغیر جائز نہیں، یعنی یہ بتلادینا چاہیے کہ گرچہ یہ چیز مجھے اتنے روپئے ہی میں پڑی ہے، مگر مجھے اتنے روپئے میں فروخت کرنا ہے، اگر آپ راضی ہوں تو خریدو ، ورنہ چھوڑدو، بعض حضرات نے اس کی تعیین ۱۰/ فی صد سے زیادہ نفع لینے سے کی ہے(۳)، اس لیے اتنی مقدار سے زیادہ نفع لینے سے احتراز کرنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” سنن ابن ماجه “ : عن أنس بن مالک (رضي الله عنه) قال: غلا السِّعر علی عهد رسول الله ﷺ فقالوا: یا رسول الله! قد غلا السِّعر، فسعِّرْ لنا، فقال: ” إن الله هو المسَعِّر القابض الباسط الرّزّاق، إني لأرجو أن ألقی ربي، ولیس أحد یطلبني بمظلمة في دم ولا مال “۔

(ص:۱۵۹، باب من کره أن یسعّر، قدیمي، أبوداود: ۷۳۱/۳، ط: عزت عبید دعاس، التلخیص الحبیر: ۳۱/۳، رقم الحدیث:۱۱۶۰، ط: مؤسسة قرطبیة، ۱۴/۳، ط: شرکة الطباعة الفنیة، الموسوعة الفقهیة:۳۰۳/۱۱، تسعیر)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یمنع أحد من التصرف في ملکه ما لم یکن فیه ضررٌ فاحشٌ للغیر۔

(۲۰۱/۳، المادة: ۱۱۹۷، دار الجیل بیروت، شرح المجلة لسلیم رستم باز البناني: ص/۶۵۷، المادة:۱۱۹۷، دار احیاء التراث العربي)

(۲) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ومن اشتری شیئًا وأغلی في ثمنه فباعه مرابحة علی ذلک جاز، وقال أبویوسف رحمه الله: إذا زاد زیادة لا یتغابن الناس فیها فإني لا أحبّ أن یبیعه مرابحة حتی یبین ۔ اه ۔ (۱۶۱/۳)

(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وغبن یسیر) وهو ما یقوم به مقوّم، وهذا (إذا لم یکن سعره معروفاً الخ) ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (ما یقوم به مقوّم) أي لم یدخل تحت تحت تقویم أحد من المقوّمین، قال مسکین: فلو قوّمه عدل عشرة وعدل آخر ثمانیة وآخر سبعة فما بین العشرة والسبعة داخل تحت تقویم المقوّمین ۔

(۲۶۰/۸، کتاب الوکالة، باب الوکالة بالبیع والشراء، فصل لا یعقد وکیل البیع والشراء، بیروت، ۵۲۴/۵، دار الفکر بیروت)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۰۸۵۷)

اوپر تک سکرول کریں۔