خطبۂ جمعہ میں عصا ہاتھ میں لینے کا حکمِ شرعی؟

مسئلہ:

خطبۂ جمعہ کے درمیان ہاتھ میں عصا لینا سنتِ غیر مؤکدہ یعنی مستحب کے درجے میں ہے ، لیکن اگر اس کو سنتِ مؤکدہ سمجھ کر ، لیا جاتا ہو تو مکروہ وبدعت ہے، کیوں کہ جب مندوبات کو ان کے رتبے سے بڑھایا جاتا ہے تو وہ مکروہات میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’المصنف لإبن عبد الرزاق‘‘: عن ابن المسیب أن النبي ﷺ کان یتوکأ علی عصا وهو یخطب یوم الجمعة إذ کان یخطب إلی الجذع فلما صنع المنبر قام علیه وتوکأ علی العصا أیضاً ۔(۱۸۴/۳، کتاب الجمعة)

وما في ’’الدر المختار مع الشامیة‘‘: ویکره أن یتکئ علی قوس أو عصا، قال الشامي: استشکله في الحلیة بأنه في روایة أبي داؤد أنه ﷺ قام أي في الخطبة متوکئاً علی عصا أو قوس ونقل القهستاني عن عبد المحیط أن أخذ العصا سنة کالقیام ۔ (۳۸/۳، کتاب الصلاة ، مطلب في حکم المرقي بین یدی الخطیب)

اوپر تک سکرول کریں۔