دستر خوان کے طورپر اردو اخبارات کااستعمال

مسئلہ:

بعض لوگ کھانے کیلئے دسترخوان کے طور پر اخبارات بچھاتے ہیں، سیٹیں پوچھتے ہیں، اور کھانے کے بعد اس سے ہاتھ صاف کرتے ہیں، اگر ان اخبارات میں قرآنی آیات ، احادیث، یا دینی مضامین ہوں، تو ایسے کاموں کیلئے ان کا استعمال قطعاً جائز نہیں،(۱) بلکہ اردواخبارات کو سرے سے ایسے کاموں کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ ان میں اللہ اور رسول ﷺ کا نام مختلف انداز سے آہی جاتا ہے۔

ہاں !ایسے اخبارات جن میں کوئی دینی بات نہ ہو، ضرورتاً ایسے مقاصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، گو امام ابوحنیفہؒ سے منقول ہے کہ دعوت میں انگلیوں کو پونچھنے اور ہاتھ کو صاف کرنے کی غرض سے کاغذ کا استعمال مکروہ ہے،(۲) لیکن یہ کراہت سادہ کاغذ کے بارے میں ہے، جس پر لکھنے کی گنجائش ہو، کیوں کہ وہ آلہٴ کتابت ہے ، اوراس لحاظ سے اس کا احترام ضروری ہے۔(۳)

جو کاغذ استعمال شدہ ہو کہ اس پر لکھنے کی گنجائش نہ ہو، یا جو کاغذ ہاتھ پونچھے اور دسترخوان بنانے ہی کیلئے بنایا گیا ہو، لکھنے کے لائق نہ ہو، انہیں استعمال کرنے کی گنجائش ہے، اس لیے جن اخبارات میں آیات واحادیث اور دینی مضامین نہ ہوں ، تو ان کو ضرورتاً ان مقاصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔(۴)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ویکره أن یجعل شیئاً فی کاغذ فیها اسم الله تعالی کانت الکتابة علی ظاهرها أو باطنها ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا یجوز لف شيء فی کاغذ فیه مکتوب من الفقه، وفی الکلام أولی أن لا یفعل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وعلی هذا قالوا: لا یجوز أن یتخذ قطعة بیاض مکتوب علیه اسم الله تعالی علامة فیما بین الأوراق لما فیه من الابتذال باسم الله تعالی۔(۳۲۲/۵۔۳۲۳، کتاب الکراهیة، الباب الخامس فی آداب المسجد الخ)

ما فی ” الشامیة “ : ولا یجوز لف شيء فی کاغذ فقه ونحوه ۔ الدر المختار ۔ قال الشامی تحت قوله: (ونحوه) الذی فی المنح، ونحوه فی الهندیة: ولا یجوز لف شيء فی کاغذ فیه مکتوب من الفقه، وفی الکلام الأولی أن لا یفعل۔ (۵۵۵/۹، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیره)

(۲) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : حکی الحاکم عن الإمام أنه کان یکره استعمال الکواغذ فی ولیمة یمسح بها الأصابع، وکان یشدد فیه ویزجر عنه زجراً بدیهاً ، کذا فی المحیط۔

(۳۲۲/۵، کتاب الکراهیة)

(۳) ما فی ” الشامیة “: وکذا ورق الکتابة لصقالته وتقومه ط وله احترام أیضاً لکونه آلة لکتابة العلم، ولذا علله فی التاتارخانیة بأن تعظیمه فی أدب الدین، ومفاده الحرمة بالمکتوب مطلقاً۔(۴۷۸/۱، کتاب الطهارة، باب الأنجاس)

(۴) ما فی ” الشامیة “ : قال الشامی: وإذا کانت العلة فی الأبیض کونه آلة الکتابة کما ذکرناه یوٴخذ منها عدم الکراهة فیما لا یصلح لها، إذا کان قائماً للنجاسة غیر متقوم کما قدمناه من جوازه بالخرق البوالي۔ (۴۷۹/۱، کتاب الطهارة، باب الأنجاس)

ما فی ” جمهرة القواعد الفقهیة “ : إذا ارتفعت العلة ارتفع معلولها۔(۶۱۶/۲)

(احسن الفتاوی: ۱۳/۸، فتاوی محمودیه: ۹۲/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔