دفن کے وقت پیروں کے بیچ سے مٹی ڈالنا

مسئلہ:

بعض علاقوں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میت کی قبر کھودتے وقت قبر کی مٹی دو پیروں کے بیچ سے کھودی جاسکتی ہے، لیکن میت کو دفن کرتے وقت دونوں پیروں کے بیچ سے مٹی ڈالنا منع ہے، اُن کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ دفن کرتے وقت کون سی باتیں مکروہ ہیں؛ وہ سب فقہاء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل بیان کردی ہیں، اور اُن میں دو پیروں کے بیچ سے مٹی ڈالنے کا مکروہ ہونا کہیں بیان نہیں کیا، نیز مُعاشَرتی معامَلات میں بھی اُسے غلط نہیں سمجھا جاتا، لہٰذا اِس طریقے کو مکروہ سمجھنا ، یا اس کے لیے کسی کو مجبور کرنا شریعت میں اپنی طرف سے زیادتی ہے، جو منع ہے، ایسے غلط عقائد پیدا کرنے سے بچنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : قال في الجوهرة: ویقول في الحثیة الأولی: ﴿منها خلقنٰکم﴾ وفي الثانیة: ﴿وفیها نعیدکم﴾ وفي الثالثة: ﴿ومنها نخرجکم تارة أخری﴾۔ وقیل: یقول في الأولی: اللهم جاف الأرض عن جنبیه، وفي الثانیة: اللهم افتح أبواب السماء لروحه، وفي الثالثة: اللهم زوّجه من الحور العین۔ اه ۔

(۱۴۳/۳، بیروت، الموسوعة الفقهیة:۱۵/۲۱، دفن، کیفیة الدفن)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ویکره وضع الآجرّ المطبوخ ۔۔۔۔۔۔ ثم یُهال التراب علیه، وتکره الزیادة علیه لأنه بمنزلة البناء، ویحرم أن یوضع تحت المیت عند الدفن مِخَدّة أو حصیرة أو نحو ذلک ۔۔۔۔۔۔۔ رواه الترمذي: أن ابن عباس کره أن یُلقی تحت المیت شيء عند الدفن۔اه۔ (۱۴/۲۱۔۱۵، دفن)

(فتاویٰ دینیہ:۴۱۰/۲)

اوپر تک سکرول کریں۔