دودھ نکالنے کی ایک نئی ترکیب

مسئلہ:

جب کسی دودھ دینے والی بھینس یا گائے کا بچہ مرجاتا ہے، اور وہ دودھ دینے میں پریشان کرنے لگتی ہے، تو اس کا دودھ نکالنے کے لیے یہ ترکیب اپنائی جاتی ہے کہ کسی چیز سے بچہ کی صورت بنا کر اس بھینس یا گائے کے سامنے رکھ دی جاتی ہے، جسے وہ اپنا بچہ سمجھ کر دودھ اُتار لیتی ہے، اور دودھ نکالنا آسان ہوجاتا ہے، یہ ترکیب شرعاً درست ہے، جب کہ اس کے سامنے رکھے جانے والے مصنوعی بچہ کا چہرہ اور آنکھیں پوری طرح ظاہر نہ ہوں، بلکہ ایسے ہی ایک شکل بنادی گئی ہو۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : إذا کانت الصورة مجسمة کانت أو مسطحة مقطوعة عضو لا تبقی الحیاة معه، فإن استعمال الصورة حینئذ جائز، وهذا قول جماهیر العلماء من الحنفیة والمالکیة والشافعیة والحنابلة۔ (۱۱۷/۱۲، تصویر)

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : أو مقطوعة الرأس أو الوجه أو ممحوحة عضو لا تعیش بدونه أو لغیر ذي روح لا یکره ۔ تنویر مع الدر ۔ قال الشامي رحمه الله: قوله: (أو مقطوعة الرأس) أي سواء کان من الأصل أو کان لها رأس ومحي۔

(۳۶۱/۲، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مطلب إذا تردد الحکم بین سنة وبدعة الخ، کذا في البحر الرائق: ۵۰/۲، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، کذا في حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح: ص/۳۶۲، فصل في المکروهات)

(احسن الفتاویٰ:۱۸۷/۸، امداد الفتاویٰ:۱۵۴/۴، فتاویٰ محمودیه:۲۴۷/۱۸، کراچی، ۱۴۸/۲۷، میرٹھ)

اوپر تک سکرول کریں۔