دوستی اور دشمنی اللہ کیلئے ہونی چاہیے

مسئلہ:

شریعتِ اسلامیہ میں اللہ ہی کیلئے محبت اور اللہ ہی کیلئے دشمنی کوسب سے افضل عمل قرار دیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن وحدیث میں جہاں بھی مطلق محبت اور دشمنی کو بیان کیا گیا ہے اس سے مراد اللہ کے لیے محبت اور اللہ کے لیے دشمنی ہوتی ہے، اللہ کے لیے محبت اور اللہ کے لیے دشمنی کا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص سے اس کے تقویٰ وطہارت ،اطاعت اور اعمالِ صالحہ میں اشتغال کی وجہ سے محبت کی جائے،اور اس کے گناہوں میں اشتغالِ کبائر کے ارتکاب، صغائر پراصرار اورطاعتِ خداوندی سے اعراض وانحراف کی وجہ سے نفرت کی جائے ، اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے نا جائز طریقہ پر کسی سے محبت کرنا یا اپنے ہوسِ نفس کے لیے کسی سے دشمنی کرنا شریعتِ اسلامیہ کی روح کے بالکل منافی ہے ، کیوں کہ اسلام اس طریقہ کی محبت ودشمنی کو سختی کے ساتھ منع کرتا ہے اور اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’  القرآن الکریم  ‘‘ : {یا أیها الذین آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوکم أولیاء تلقون إلیهم بالمودة} ۔ (الممتحنة:۱)

ما في ’’السنن لأبي داود‘‘ :’’ أفضل الأعمال الحب في الله والبغض في الله ‘‘۔(ص:۶۳۲،کتاب السنة ، باب مجانبة أهل الهواء وبغضهم)

ما في’’ بذل المجهود ‘‘:أي من یحبه لایحبه إلا الله ومن یبغضه لاببغضه إلا الله، فیبغض عدوه ومخالفه وعاصیه ومنهم أهل الهواء ویحب من یطیعه ویوالیه۔

(۱۰/۱۳، رقم الحدیث : ۴۵۹۹)

ما في ’’ فتح الباري ‘‘ : قال البیضاوي : المراد بالحب هنا الحب العقلي الذي هو إیثار ما یقتضي العقل السلیم رجحانه وإن کان علی خلاف هوی النفس فإذا تأمل المرأ أن الشارع لا یأمر ولا ینهی إلا بما فیه صلاح عاجل أو خلاص آجل ، والعقل یقتضي   رجحان جانب ذلک ۔(۸۴/۱، باب حلاوة الإیمان)

ما في ’’ تکملة فتح الملهم ‘‘ : والمراد من المتحابین  بجلاله تعالی الذین أحب بعضهم بعضاً لرضا الله سبحانه وتعالی وطاعته لا لمنافع الدنیا ۔

(۳۶۸/۵، کتاب البر والصلة ، في فضل الحب من الله)

ما في ’’ فتح الباري ‘‘ : قال یحی بن معاذ : حقیقة الحب في الله أن لا یزید بالبر ولا ینقص بالجفاء ۔(۸۶/۱)

وقال تعالی : {أرء یت من اتخذ إلٰهه هواه} ۔ (سورة الفرقان:۴۳)

ما في ’’ روح المعاني ‘‘ :  فالآیة شاملة لمن عبد غیر الله تعالی حسب هواه ولمن أطاع  الھوی في سائر المعاصي ۔ (۳۶/۱۱)

اوپر تک سکرول کریں۔