مسئلہ:
اگر کسی شخص نے کسی دوسرے سے کوئی کتاب وغیرہ مطالعہ کے لیے لیا، پھر مالک کے مطالبہ پر وہ کتاب کو اپنے پاس نہ پائے، اور وہ ایسا بھولا کہ اُس کو یاد نہیں کہ اُس نے واپس کیا یا نہیں، یاکسی اور نے اُس سے مطالعہ کے لیے لیا ہے، یا وہ ضائع ہوگئی ، تو اس پر اس کاضمان لازم ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : بخلاف قوله: لا أدري أضاعت أم لم تضع، أولا أدري وضعتها أو دفنتها في داري أو موضع آخر فإنه یضمن۔
(۴۹۴/۱۲، کتاب الإیداع، مطلب مودع الغاصب لو استهلکها لا یرجع علی الغاصب الخ)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : استعار کتابًا فضاع فجاء مالکه فلم یخبر بالضیاع ووعد بالرد، ثم أخبره بالضیاع إن لم یکن آیسًا من وجوده لا ضمان، وإن کان آیسًا من وجوده یضمن، وقال الصدر الشهید: هذا التفصیل خلاف ظاهر الروایة، فإنه إذا وعده الرد ثم ادعی الضیاع یضمن للتناقض إذا کان دعوی الضیاع قبل الوعد، وبه یفتی ۔ کذا في الوجیز للکردري ۔
(۳۷۱/۴، الباب السابع في استرداد العاریة وما یمنع من استردادها ، کذا في الفتاوی الولوالجیة:۱۹/۳۔۲۰، کتاب العاریة، الفصل الأول فیما یضمن المستعیر وفیما لا یضمن)
ما في ” رد المحتار “ : ثم نقل في العمادیة بعدها: ولو قال: لا أدري أضیعتها أم لم أضیع یضمن، لأنه نسب الإضاعة إلی نفسه فکان ذلک تعدیًا منه کما یأتی قریبًا ۔۔۔۔ ۔ ولو قال وضعتها في مکان حصین فنسیت الموضع ضمن لأنه جهل الأمانة کما لو مات مجهلا۔ (۴۹۳/۱۲، کتاب الإیداع، مطلب مودع الغاصب لو استهلکها الخ)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۲۰۸/۱۵)
