دولہے والوں کا منڈوے کا کھانا کھلانا

مسئلہ:

بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ شادی سے ایک دن پہلے لڑکے والے منڈوے کا کھانا کھلاتے ہیں، اگر یہ کھانا اتفاقاً یا ضرورةً دیا جائے، مثلاً باہر سے مہمان آئے ہوں اور کھانے میں اسراف، ریاء ونمود اور پابندئ رسم ورواج کو دخل نہ ہو ، تو یہ کھانا مباح ہے(۱)، لیکن اگر رسم ورواج اورریاء ونمود کیلئے کھلایا جائے، پورے گاوٴں میں سے لوگوں کو بلایا جائے اور باقاعدہ اس کا التزام کیا جائے، تو یہ کھانا شرعاً جائز نہیں ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿هل أتٰک حدیث ضیف إبراهیم المکرمین، إذ دخلوا علیه فقالوا سلٰماً، قال سلٰم قوم منکرون، فراغ إلی أهله فجاء بعجل سمین، فقربه إلیهم قال ألا تأکلون﴾۔(سورة الذاریات:۲۴۲۷)

ما فی ” مشکوة المصابیح “ : عن أبی هریرةؓ قال : قال رسول الله ﷺ : ” من کان یوٴمن بالله والیوم الآخر فلیکرم ضیفه “ ۔ (ص:۳۶۸، باب الضیافة)

(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین آمنوا لا تبطلوا صدقاتکم بالمنّ والأذی، کالذی ینفق ماله رئاء الناس ولا یوٴمن بالله والیوم الآخر﴾۔ (سورة البقرة:۲۶۴)

ما فی ” مشکوة المصابیح “:عن أبی هریرة قال : قال رسول الله ﷺ : ” المتباریان لا یجابان ولا یوٴکل طعامهما “۔قال الإمام أحمد : یعني المتعارضین بالضیافة فخراً وریاءً۔

(ص:۲۷۹، کتاب النکاح، باب الولیمة)

ما فی” مرقاة المفاتیح “: من أصر علی مندوب وجعله عزماً ولم یجعل بالرخصة فقد أصاب منه الشیطان من الإضلال، فکیف من أصر علی بدعة أو منکر۔

(۲۶/۳، المکتبة الأشرفیة بدیوبند)

ما فی ” السعایة “ : الإصرار علی المندوب یبلغه إلی حد الکراهة۔(۲۶۵/۲، قبیل فصل فی القراءة)

اوپر تک سکرول کریں۔