مسئلہ:
مشترکہ خاندانی نظام یعنی جوائنٹ فیملی کا ایک سنگین مسئلہ یہ ہے کہ؛ بڑے لڑکے کی شادی ہوجاتی ہے، اور دوسرے جوان لڑکے جن کی شادیاں ابھی تک نہیں ہوئیں، وہ اُسی مکان میں رہتے ہیں، اُن کی خدمت بھی اِس نئی بھابی کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتی ہے، اور یہ دیور اپنی اِس بھابی سے ہنسی مذاق کرتے ہیں، اور بے پردہ آمنا سامنا بھی ہوتا ہے، اور اسے گناہ بھی نہیں سمجھا جاتا ہے، حالانکہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ دیور (شوہر کا چھوٹا بھائی) بھابی کا مَحرَم نہیں، اُس سے پردہ کرنا ضروری ہے، لہٰذا دیور اور بھابی کو چاہیے کہ پردہ کا پورا پورا اہتمام کریں، آپس میں بے تکلفی اور ہنسی مذاق سے پرہیز کریں، کیوں کہ اِس حکم شرعی کا پاس ولحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے بڑے مفاسد اور برائیاں مُشاہَدے میں آرہی ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ:”إیاکم والدخول علی النساء“ فقال رجل:یا رسول الله! أرأیت الحمو؟قال:”الحمو الموتُ “۔متفق علیه۔
(ص:۲۶۸، باب النظر إلی المخطوبة، قدیمی، صحیح البخاري:۷۸۷/۲، کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم والدخول علی المغیبة، رقم:۵۲۳۲، صحیح مسلم:۲۱۶/۲، کتاب السلام، باب تحریم الخلوة بالأجنبیة والدخول علیها، رقم:۲۱۷۲)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ: ” إیاکم والدخول علی النساء “ ۔ أي غیر المحرمات علی طریق التخلیة أو علی وجه التکشف۔
(۲۵۳/۶، رقم:۳۱۰۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)
ما في ” عمدة القاري “ : وقال النووي: المراد من ” الحمو “ في الحدیث؛ أقارب الزوج غیر آبائه وأبنائه، لأنهم محارم للزوجة یجوز لهم الخلوة بها، ولا یوصفون بالموت، قال: وإنما المراد: الأخ وابن الأخ والعم وابن العم وابن الأخت ونحوهم ممن یحل لها تزوجه لو لم تکن متزوجة، وجرت العادة بالتساهل فیه، فیخلو الأخ بامرأة أخیه فشبهه بالموت، وقال القاضي: الخلوة بالأحماء مؤدیة إلی الهلاک في الدین۔ (۳۰۳/۲۰، تحت رقم:۵۲۳۲، المنهاج شرح مسلم بن الحجاج:۲۷۴/۷، تحت رقم:۲۱۷۲)
(فتاویٰ محمودیہ: ۱۷/۸۷، ط: میرٹھ)
