ذی روح کی تصویر کشی اور تصویر سازی کیا شرعاً حرام ہے؟

(فتو یٰ نمبر: ۸۹)

سوال:

مدرسہ فرقانیہ تعلیم القرآن“ یہ ایک مکتب ہے،جو گذشتہ ۲۵/ سالوں سے مکہ مسجد مومن پورہ پونہ میں، بعداز نمازِ مغرب تا عشا چلتاہے،فی الوقت مدرسے میں محلہ اور اطرافِ محلہ کے تقریباً پانچ سو پچیس(۵۲۵) طلبا وطالبات (جن کی عمریں۳/ تا ۱۵/ سال ہیں)تعلیم حاصل کررہے ہیں، طلبا وطالبات کی نشست کا نظم مکمل طور پر علیحدہ ہے،اور معلمین ومعلمات کی تعدادتقریباً ۲۰/ ہیں۔

الحمد للہ! امسال ماہِ جون سے خادمینِ ”مدرسہ فرقانیہ “نے بچوں کے لیے نیا نصاب منتخب کیا ہے، جو ”دینیات“ کے نام سے ہے، یہ ۵/سالہ کورس ہے، جسے ”اہم چیریٹیبل ٹرسٹ فائن ٹچ(Fine Tounch) ممبئی“ نے جاری کیا ہے، خادمین کی یہ کوشش ہے کہ مکتب کو باقاعدہ منظم طریقے سے چلایا جائے، جس میں بچوں کو دینیات کورس کی کتاب، دفتر اور شناختی کارڈ (Identity Card)(جس میں بچے کا نام، پتہ اور عمر وغیرہ کے ساتھ اس کا فوٹو بھی چسپاں ہوگا) دیا جائے،چوں کہ مکتب مسجد میں چلتا ہے ؛اس لیے آپ سے یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا شناختی کارڈمیں فوٹو(Photo) بھی چسپاں کیا جاسکتا ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

ضرورت نام ہے انسان کا اس درجے پر پہنچ جانا کہ اگر اشیائے ممنوعہ کا استعمال نہ کرے، تو ہلا ک یا قریب الہلاک ہوجائے۔(۱)

ذی روح کی تصویر کشی اور تصویر سازی شرعاً حرام ہے(۲)، ہاں! اگر تصویر کشی مبنی بر ضرورتِ شدیدہ ہو، مثلاً: پاسپورٹ (Passport)کے لیے ہو تو مباح ہے، کیوں کہ مواضعِ ضرورت، حرمت سے مستثنیٰ ہوتے ہیں(۳)، لیکن صورتِ مسئولہ میں ضرورت کی تعریف صادق نہیں آتی؛ اس لیے یہ شرعاً ناجائز وحرام ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” شرح الحموي علی هامش الأشباه والنظائر “ : الضرورة بلوغه حدًا إن لم یتناول الممنوع هلک أو قارب ۔ (۳۰۸/۱ ، القاعد ة الخامسة)

(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : قوله علیه السلام : ” إن أشد الناس عذابًا عند اللّٰه المصورون “ ۔ (۸۸۰/۲)

ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : یدل علی المنع من تصویر شيء أي شيء کان ۔ (۲۷۴/۱۴)

ما في ” الدر المختا ر مع الشامیة “ : لا تمثال إنسان أو طیر ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : لحرمة تصویر ذي الروح ۔ (۵۱۹/۹)

ما في ” شرح النووي علی هامش الصحیح لمسلم “ : قال النووي رحمه اللّٰه تعالی : قال أصحابنا وغیرهم من العلماء : تصویر صورة الحیوان حرام شدید التحریم ، وهو من الکبائر؛ لأنه متوعد علیه بهذا الوعید الشدید المذکور في الأحادیث ، وسواء صنعه بما یمتهن أو بغیره ، فصنعته حرام بکل حال؛ لأن فیه مضاهاة لخلق اللّٰه تعالی ، وسواء کان في ثوب أو بساط أو درهم أو دینار أو فلس أو إناء أو حائط أو غیرها۔

(۱۹۹/۲ ، رد المحتار : ۴۱۶/۲ ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، مطلب إذا ترد د الحکم بین سنة وبدعة)

(۳) ما في ” شرح السیر الکبیر “ : وإن تحققت الحاجة له إلی استعمال السلاح الذي فیه تمثال ،فلا بأس باستعماله ؛ لأن المواضع مستثناة عن الحرمة ، کما في تناول المیتة۔

(۲۱۸/۴ ، باب ما یکره في دار الحرب وما لا یکره)

ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : الضرورات تبیح المحظورات ۔(۳۰۷/۱ ، القاعدة الخامسة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۶/۵ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔