رشوت دے کر ملازمت حاصل کرنا شرعاً کیسا ہے؟

( فتویٰ نمبر: ۴۸)

سوال:

رشوت دے کر اسکولوں میں ملازمت کرنا،خواہ وہ خانگی(Private) اسکول ہویاسرکاری ، دونوں کے متعلق شریعت کہا ں تک اجازت دیتی ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

رشوت لینا اور دینا دونوں عمل شرعاًحرام ہیں، اگر واقعی کوئی شخص اسکول میں تدریس وغیرہ کی اہلیت وصلاحیت رکھتا ہو، اور اس کا یہ جائز حقِ ملازمت، انتظامیہ بلارشوت لیے اسے نہ دے رہی ہو، تو اس کے لیے رشوت دے کر ملازمت حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ وحرج نہیں، البتہ لینے والوں کے لیے حرام ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” بذل المجهود في حل سنن أبي داود “ : عن عبد اللّٰه بن عمرو قال : (لعن رسول اللّٰه ﷺ الراشي) أي معطي الرشوة (والمرتشي) أي آخذها ، فأما إذا أعطی لیتوصل به إلی حق أو یدفع عن نفسه ظلماً فإنه غیر داخل في هذا الوعید ۔ (۳۰۵/۱۱)

ما في ” رد المحتار “ : وفي الفتح : ثم الرشوة أربعة أقسام : ۔۔۔۔۔ الرابع : ما یدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیه علی نفسه أو ماله حلال للدافع حرام علی الآخذ ۔

(۳۵/۸ ، البحر الرائق : ۴۴۱/۶)

(کتاب الفتاویٰ :۲۴۷/۶) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۳/۲۱ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔