(فتویٰ نمبر: ۱۲۱)
سوال:
زید نے اپنی نانی اور دادی کا دودھ حالتِ رضاعت میں پیا ہے، اب زید اگر اپنے ماموں، خالہ،چچا یا پھوپھی کی لڑکی سے شادی کرنا چاہے، تو کرسکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں کرسکتا تو کیوں؟ نیز کیا زید کا بھائی اپنے ماموں، خالہ ، چچا یا پھوپھی کی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
زید کا اپنی نانی اور دادی کا دودھ پینے کی وجہ سے، زید کی نانی اور دادی زید کی رضاعی مائیں ہوئیں، اس لیے زید کے لیے اپنے ماموں،خالہ ، چچا یاپھوپھی کی لڑکی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ نانی کا دودھ پینے کی وجہ سے زید کے ماموں اور خالہ، زید کے رضاعی بھائی بہن ہوئے، اس لیے ماموں کی لڑکی رضاعی بھتیجی اور خالہ کی لڑکی رضاعی بھانجی ہوئی، اسی طرح دادی کا دودھ پینے کی وجہ سے چچا کی لڑکی رضاعی بھتیجی اور پھوپھی کی لڑکی رضاعی بھانجی ہوئی،اور جس طرح نسبی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح حرام ہے، اسی طرح رضاعی بھتیجی اور بھانجی سے بھی نکاح حرام ہے، البتہ زید کا بھائی ان کے ساتھ یعنی ماموں، خالہ ، چچایا پھوپھی کی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے اور یہ جائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مشکوة المصابیح “ :عن عائشة – رضي اللّٰه عنها – قالت : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” یحرم من الرضاعة ما یحرم من الولادة “ ۔ رواه البخاري ۔
(ص/۲۷۳ ، باب المحرمات ، الفصل الأول)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : وعن علي – رضي اللّٰه عنه – قال:یارسول الله! هل لک في بنت عمک حمزة؟ فإنها أجمل فتاة في قریش۔ فقال له: ” أما علمت أن حمزة أخي من الرضاعة؟ وإن اللّٰه حرم من الرضاعة ما حرم من النسب “ ۔ رواه مسلم ۔ (۹۴۵/۲ ، باب المحرمات ، الفصل الأول، ط: بیروت)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا حل بین رضیعي وامرأة لکونهما أخوین وإن اختلف الزمن والأب، ولا حل بین الرضیعة وولد مرضعتها، أي التي أرضعتها، وولد ولدها؛ لأنه ولد الأخ۔ (در مختار)۔(۴۱۰/۴، کتاب النکاح، باب الرضاع)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۴۴۵/۸، أحکام الرضاع) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۷/۲۷ھ
