(فتویٰ نمبر: ۲۹)
سوال:
ایک آدمی ۷/سے ۱۴/سال کی عمر کے بچوں کو رقص/ڈانس(Dance) سکھاتا ہے، تو اس طرح رقص کی کلاس چلا کر روزی کمانا مذہبِ اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ وہ آدمی صوم وصلاة کا پابند ہے، اورکسی نشہ آور چیز کا عادی بھی نہیں ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
فرمانِ خداوندی ہے : ﴿یَا أَیُّها الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا﴾۔”اے رسولو! کھاوٴ ستھری چیزیں اورکام کروبھلا“ ۔ (سورة الموٴمنون :۵۱)
آیتِ مذکورہ میں دوہدایتیں دی گئیں:
(۱)کھانا حلال اور پاکیزہ کھاوٴ۔
(۲) عمل نیک صالح کرو۔
جب انبیائے کرام علیہم السلام کو شارع کی جانب سے اکلِ حلال کا حکم دیا گیا،باوجودے کہ وہ معصوم ہیں، تو امت کے لوگوں کے لیے یہ حکم اور زیادہ قابلِ اہتمام ہے۔
علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” سَوَّی اللّٰہُ تَعَالٰی بَیْنَ النَّبِیِّیْنَ وَالْمُوٴْمِنِیْنَ فِيْ الْخِطَابِ بِوُجُوْبِ أَکْلِ الْحَلالِ وَتَجَنُّبِ الْحَرَامِ “۔ ”اللہ تعالیٰ نے اکلِ حلال اور اجتناب عن الحرام کے وجوب سے متعلق انبیائے کرام اور دیگر موٴمنین کو مساوی طور پر مخاطب فرمایا ہے“۔ (الجامع لأحکام القرآن للقرطبي: ۱۲۸/۱۲)
شریعتِ اسلامیہ نے ہمیں اکلِ حلال کا حکم دیا اور اکلِ حرام سے نہ صرف منع فرمایا، بلکہ اس پر سخت وعید وارد ہوئی ہے،ارشادِ خداوندی ہے:﴿یَا أَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ۔ ”اے ایمان والو ! تم اپنے اموال آپس میں ناحق مت کھاوٴ ۔“ (سورة النساء :۲۹)
لفظِ” باطل“ جس کا ترجمہ ”ناحق “سے کیا گیا ہے، عبد اللہ ابن مسعود اور جمہور صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے نزدیک ان تمام صورتوں پر حاوی ہے، جو شرعاً ممنوع ہیں، جس میں چوری، ڈاکہ، غصب، خیانت، رشوت، اور سود وقمار تمام معاملاتِ فاسدہ داخل ہیں۔” والباطل“ هو کل طریق لم تبحه الشریعة، فیدخل فیه السرقة، والخیانة، والغصب، والقمار، وعقود الربا، وأثمان البیاعات الفاسدة “ ۔ (البحر المحیط لأبي حیان الغرناطي : ۳۲۲/۳)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا، جس کی پرورش حرام غذا سے ہوئی ہو)۔ عن أبي بکر أن رسول اللّٰہ ﷺ قال: ” لا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ جَسَدٌ غُذيَ بِالْحَرَامِ “ ۔ رواہ البیہقي في شعب الإیمان ۔(ص/۲۴۳ ، الفصل الثالث ، باب الکسب وطلب الحلال)
حلال کھانا اور حرام کھانے سے بچنا اسی صورت میں ممکن ہے، جب کہ آدمی حلال ذریعہٴ آمدنی کو اختیار کرے،اور حرام ذریعہٴ آمدنی سے اپنے آپ کو بچائے؛ اس لیے حلال ذریعہٴ آمدنی کو اختیار کرنا اور حرام ذریعہٴ آمدنی سے بچنا یہ دونوں بھی فرض ہوں گے، کیوں کہ قاعدہٴ فقہیہ ہے: ” وَسِیْلَةُ الْمَقْصُوْدِ تَابِعَةٌ لِلْمَقْصُوْدِ وَکِلاهمَا مَقْصُوْدٌ “۔ (اعلام الموقعین :۱۷۵/۳)
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”حلال روزی کمانا فرض کے بعد ایک فرض ہے۔“
عن (عبد اللّٰہ) : ” طَلَبُ کَسْبِ الْحَلالِ فَرِیْضَةٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَةِ “ ۔ رواہ البیہقي في شعب الإیمان ۔ (مشکوة المصابیح : ص/۲۴۲ ، باب الکسب وطلب الحلال)بھی اس پر شاہد ہے۔
اس لیے ہر مسلمان پر جو محتاجِ کسب ہے، حلال ذریعہٴ آمدنی کو اختیار کرنا اور حرام ذریعہٴ آمدنی کو چھوڑنا فرض ہے، نیز جب آدمی حلال کماتا ہے اور حلال کھاتا ہے، تو اس کے ساتھ خدا کی مدد ونصرت اور اس کی آمدنی میں بر کت ہوتی ہے،اور وہ بلاوٴں، آفتوں، پریشانیوں، مصیبتوں، بیماریوں اور حادثوں سے محفوظ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر بندہٴ مومن کے لیے حلال وطیب رزق مقدر فرمایا ہے، مگر بندہ رزقِ حلال کو چھوڑکر حرام ذریعہٴ آمدنی کو اپنا کر، رزقِ حرام کو پسند کرتا ہے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”اللہ نے تمہیں اس قابل بنایا ہے کہ حلال روزی حاصل کرو، مگر تم نے حلال روزی کے بجائے حرام روزی اختیار کررکھی ہے۔“ ” لَقَدْ رَزَقَکَ اللّٰه طَیِّبًا حَلالا فَاخْتَرْتَ مَا حَرَّمَ اللّٰه عَلَیْکَ مِنْ رِزْقِه مَکَانَ مَا أَحَلَّ اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ لَکَ مِنْ حَلالِه “ ۔ (سنن ابن ماجة : ص/ ۱۸۷ ، أبواب الحدود ، باب المخنثین ، تحفة الأشرا ف تحت ترجمة صفوان بن أمیة : ۱۹۱/۴ ، رقم : ۴۹۵۰)
الحاصل! ناچ گانا شرعاً حرام ہے (۱)؛ اس لیے اس کی کلاس چلاکر اس کو ذریعہٴ آمدنی بنانا بھی حرام ہوگا۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱)ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وکره کل لهو لقوله علیه الصلاة والسلام: ” کل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة : ملاعبته أهله ، وتأدیبه لفرسه ، ومناضلته بقوسه“۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : أيکل لعب وعبث ، واستماعه کالرقص والسخریة۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیر ذلک حرام ۔ (۵۶۶/۹ ، کتاب الحظر والإباحة)
(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا تصح الإجارة ۔۔۔۔۔۔۔۔ لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي ۔ (در مختار) ۔
(۷۵/۹ ، کتاب الإجارة ، مطلب في الاستئجار علی المعاصي)
(الفتاوی البزازیة علی هامش الفتاوی الهندیة: ۴۱/۵،کتاب الإجارة،باب المتفرقات،الفتاوی الهندیة:۴۴۹/۴،کتاب الإجارة،الفصل الرابع في فساد الإجارة،ط:زکریادیوبند)
(رد المحتار: ۳۴/۵، ط : نعمانیه دیوبند) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۲/۲۷ھ
الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی ۔۲۷/۲/۱۴۲۹ھ
