روزے میں دانت اکھڑوانا

مسئلہ:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بحالتِ روزہ دانت اکھڑوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جب کہ صحیح یہ ہے کہ روزے کی حالت میں دانت اکھڑوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، کیوں کہ روزہ کے ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کا تعلق ایسی چیزوں سے ہے جو حلق کے نیچے پہنچتی ہو، دانت چونکہ حلق سے اوپر ہے، اس لئے بذاتِ خود دانت نکالنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اگر دانت اکھڑواتے وقت جو خون نکلا اس کو تھوک کے ساتھ نگل لیا اور خون تھوک پر غالب تھا تو روزہ ٹوٹ جائیگا، اور اگر دونوں برابر ہوں تب بھی استحساناً روزہ ٹوٹ جائیگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الشامیة “ : المفطر إنما هو الداخل من المنافذ۔ (۳۶۷/۳)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : الدم إذا خرج من الأسنان ودخل حلقه إن کانت الغلبة للبزاق لا یضر، وإن کانت الغلبة للدم یفسد صومه، وإن کان سواء أفسد أیضاً استحساناً۔

(۲۰۳/۱)

ما فی ” المحیط البرهانی “ : الدم إذا خرج من الأسنان ودخل الحلق إن کانت الغلبة للبزاق لا یفسد صومه، وإن کانت الغلبة للدم فسد صومه، وإن کان علی السواء فسد صومه احتیاطاً۔(۵۵۷/۲، کتاب الصوم)

(کتاب الفتاویٰ: ۳۹۹/۳، فتاویٰ حقانیه: ۱۶۳/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔