مسئلہ:
ایک دسترخوان پر الگ الگ روٹی رکھ کر کھانا، یا ایک روٹی میں سے سب کا توڑ کر کھانا، یا ایک روٹی کے چار حصہ کرکے کھانا، سب طرح ٹھیک ہے، الگ الگ روٹی رکھ کر کھانا اس لئے صحیح ہے کہ اپنی خوراک کا اندازہ باقی رہتا ہے، افراط وتفریط نہیں ہوتی،(۱) ایک روٹی میں سے سب کا کھانا اس لئے درست ہے کہ اس میں اتحاد واتفاق کا پہلو غالب ہے،(۲) اور چار ٹکڑے کرکے کھانے کا دستور ان علاقوں میں ہے جن میں شیعوں کا زور ہے، اور اس سے اشارہ خلفاء اربعہ کی طرف ہے کہ ہم چاروں کو مانتے ہیں، شیعوں کی طرح دو یا تین کے منکر نہیں ہیں۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿کلوا واشربوا ولا تسرفوا، إنه لا یحب المسرفین﴾۔(سورة الأعراف :۳۱)
ما فی ” التفسیر الکبیر “ : أن یأکل ویشرب بحیث لا یتعدی إلی الحرام ولا یکثر الإنفاق المستقبح، ولا یتناول مقداراً کثیراً یضره، ولا یحتاج إلیه۔ (۲۳۰/۵)
(۲) ما فی ” الصحیح للبخاری “ : عن أبی موسی، عن النبی ﷺ قال: ” الموٴمن للموٴمن کالبنیان یشد بضعه بعضاً “۔ (۸۹۰/۲، کتاب الأدب)
(۳) ما فی ” السنن لإبن ماجة “ : عن عرباض بن ساریة قال: قال رسول الله ﷺ: ” علیکم بتقوی الله والسمع والطاعة وإن عبداً حبشیاً، وسترون من بعدی اختلافاً شدیداً، فعلیکم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدین المهدیین، عضوا علیها بالنواجذ “۔(ص:۵، باب اتباع سنة الخلفاء الراشدین)
ما فی ” انجاح الحاجة علی سنن ابن ماجة “ : الخلفاء الراشدون الذین اتبعوا رسول الله ﷺ قولاً وفعلاً وعملاً، وهم الخلفاء الخمسة بعده ﷺ، أعنی أبا بکر وعمر وعثمان وعلیاً والحسن، الذین ینطبق علی خلافتهم هذا الحدیث۔ (ص:۵، باب اتباع سنة الخلفاء الراشدین)
(فتاوی محمودیه:۳۴/۲۷)
