رکوع میں سجدہٴ تلاوت کی نیت

مسئلہ:

اگر کوئی شخص آیتِ سجدہ تلاوت کرنے کے بعد فوراً ،یا دوتین چھوٹی آیتیں تلاوت کرنے کے بعد رکوع میں چلاگیا، اور ر کوع میں سجدہٴ تلاوت کی نیت کر لی تو سجدہ ادا ہوجائے گا ،اور اگر رکوع میں نیت نہ کرے تو سجدے میں بغیر نیت کے بھی سجدہٴ تلاوت اداہوجاتا ہے ،لیکن اگر امام نے رکوع میں نیت کرلی اور مقتدیوں نے نہیں کی تو مقتدیوں کا سجدہٴ تلاوت ادا نہیں ہوگا،بلکہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد سجدہٴ تلاوت اداکریں، پھر اپنے قعدہٴ اخیرہ کا اعادہ کرکے سلام پھیر کر اپنی نماز مکمل کریں،اگر قعدہ کا اعادہ نہ کیا تو نماز فاسد ہوجائے گی، لہٰذا امام کو چاہیے کہ رکوع میں نیت نہ کرے ،اگر نیت کرنی ہو تو نمازشروع کرنے سے پہلے اعلان کردے کہ کس رکعت میں سجدہٴ تلاوت واجب ہوگا، اور وہ کہاں نیت کرے گا ،آیا رکوع میں، یا سجدے میں ،تاکہ مقتدیوں کی نماز میں فساد پیدا نہ ہو، اور اگر رکوع میں نیت نہ کرے تو نماز کے سجدے میں بغیر نیت کے بھی دونوں کا سجدہ اداہوجائیگا ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وتوٴدی برکوع وسجود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ في الصلاة ۔۔ ۔۔۔۔ لها ، وتوٴدی برکوع صلاة إذا کان الرکوع علی الفور من قراء ة آیة أو آیتین ، وکذا الثلاث علی الظاهر کما في البحر إن نواه أي کون الرکوع لسجود التلاوة علی الراجح ، وتوٴدی بسجودها کذلک أي علی الفور ، وإن لم ینو بالإجماع ، ولو نواها في رکوعه ولم ینوها الموٴتم لم تجزه ، ویسجد إذا سلم الإمام ویعید القعدة ، ولو ترکها فسدت صلاته ۔ کذا في القنیة ۔ الدر المختار ۔

(۵۸۶/۲ ، ۵۸۷ ، کتاب الصلاة ، باب سجود التلاوة ، حلبي کبیر :ص/۵۰۵)

اوپر تک سکرول کریں۔