(فتویٰ نمبر: ۱۳)
سوال:
۱– زید مکان مالک ہے، اور بکر نے زید کو ہزار (۱۰۰۰)روپے بطور قرض کے دیئے ہیں، اور مکان بطورِ رہن کے ہے، تو کیا بکر اس مکان کو بغیر کسی کرایہ کے استعمال کرسکتا ہے؟جب کہ زید نے (جو مکان مالک ہے) اس میں رہنے کی اجازت بھی دی ہے۔
۲– بکر اس مکان کو استعمال کرتا ہے، مگر ماہانہ کرایہ صرف پچاس(۵۰) روپے ہی دیتا ہے، جب کہ عام طور پر اس طرح کے مکان کا کرایہ سا ت
سو (۷۰۰)روپے ہے۔
۳– بعض لوگ کہتے ہیں کہ پہلے قرض کا مسئلہ حل ہوجائے،بعدہ دوسری مجلس منعقد کرکے مکان میں رہنے کا مسئلہ حل کیا جائے، تو یہ صحیح ہوجاتا ہے، کیااس طرح کرنے سے جواز کی صورت نکل آتی ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– مرتہن (جس کے پاس رہن رکھا گیا ) کے لیے شئ مرہون (رہن پر رکھی ہوئی چیز) سے کسی بھی طرح نفع اُٹھانا حرام ہے، خواہ راہن اس کی اجازت دے، لہٰذا بکر کے لیے اس مکان کا استعمال شرعاً صحیح نہیں ہے۔(۱)
۲– جب یہ مکان رہن پر رکھا گیا تو اجارہ پر نہیں دیا جاسکتا، کیوں کہ شئ واحد میں عقدِ رہن واجارہ دونوں جمع نہیں ہوسکتے؛ اس لیے بکر کا اس مکان کو کرایہ پر استعمال کرنا صحیح نہیں ہے۔(۲)
۳-اس طرح کا معاملہ صحیح نہیں ہوتا،بلکہ عقدِ رہن باطل ہوکر عقدِ اجارہ صحیح ہوتا ہے، بشرطیکہ شی ٴ مستأجَر(کرایہ پر لی ہوئی چیز) پر ازسرِ نو قبضہ پایا جائے، اب اس عقد پر احکامِ رہن نہیں احکام اجارہ مرتب ہوں گے، پہلے بکر اس مکان پر بحیثیتِ مرتہن قابض تھا اور اب بحیثیتِ مستأجِر (کرایہ دار) قابض ہوگا۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” رد المحتار “ : ولا یحل له أن ینتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن ؛ لأنه أذن له في الربا ؛ لأنه یستوفي دینه کاملاً ، فتبقی له المنفعة فضلا ، فیکون ربا ، وهذا أمر عظیم ۔ (۸۳/۱۰)
(۳/۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : بخلاف الإجارة والبیع والهبة والرهن من المرتهن ، ومن الأجنبي إذا باشر أحدهما بإذن الآخر ، حیث یخرج عن الرهن۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : أما الإجارة فالمستأجر إن کان هو الراهن فهي باطل، وإن کان هو المرتهن وجدد القبض للإجارة بطل الرهن ۔ (۱۳۰/۱۰) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۲/۶ھ
