(فتویٰ نمبر: ۸۷)
سوال:
۱-زید نے عمرو سے غیر متعینہ مدت کے لیے پانچ لاکھ روپے میں مکان گروی پر لیا، جب تک عمرو روپے واپس نہیں کرتا وہ مکان زید کی ملکیت میں ہے ،اور زید کو اس مکان سے پورا پورا فائدہ حاصل کرنے کا اختیار ہے ،کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے؟
۲-کیا زید اس مکان کو کرایہ پر دے کر فائدہ اٹھاسکتا ہے؟
۳– اگر عمرو آدھی رقم زید کو واپس کردے ،تو کرایہ زید وعمرو دونوں کے درمیان نصف نصف بٹوارہ کرنا درست ہوگا ،یا صرف زید کرایہ کا مالک ہوگا؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-جب عمرو کا یہ مکان زید کے پاس مرہون(گروی) ہے،تو زید کے لیے اس سے کسی بھی طرح کا انتفاع شرعاً درست نہیں، خواہ راہن اس کی اجازت دے ، کیوں کہ شئ مرہون سے کسی بھی طرح کا انتفاع حلال نہیں ہے۔(۱)
۲– جی نہیں! (۲)
۳– یہ صورت شرعاً باطل ہے، کیوں کہ شئ واحد میں عقدِ اجارہ وعقدِ رہن دونوں جمع نہیں ہوسکتے، اور اگر عمر وزید کی اجازت سے اس مکان کو کرایہ پر دیتا ہے، تو عقدِ رہن باطل ہوگا، اور عقدِ اجارہ صحیح ہوگا، اور عمرو ہی پورے کرایہ کا حق دار ہوگا، کیوں کہ یہ کرایہ اسی کے مملوک مکان کی منفعت کا بدل ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱/۲) ما في ” رد المحتار “ : ولا یحل له أن ینتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن ؛ لأنه أذن له في الربا ؛ لأنه یستوفي دینه کاملاً ، فتبقی له المنفعة فضلا ، فیکون ربا ، وهذا أمر عظیم ۔ (۸۳/۱۰ ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)
(الفلک المشحون في الانتفاع بالمرهون :ص/۱۳ ، ملحقة بمجموعة رسائل اللکنوي :۱۳/۳)
(۳) ما في ” النتف في الفتاوی “ : قال : ولا یجوز في الرهن تسعة أشیاء: الرهن لا یباع، ولا یوهب، ولا یتصدق به ، ولا یرهن ، ولا یودع ، ولا یعار، ولا یوٴاجر، ولا یستعمل، ولا ینتفع به بوجه من الوجوه ۔ (ص/۳۷۰ ، کتاب الرهن ، ما لا یجوز في الرهن)
ما في ” بدائع الصنائع “ : ولیس له أن یوٴاجره من أجنبي بغیر إذن المرتهن ؛ لأن قیام ملک الحبس له یمنع الإجازة ، ولأن الإجازة بعقد الانتفاع ، وهو لا یملک الانتفاع بنفسه ، فکیف یملکه غیره ، ولو فعل وقف علی إجازته ، فإن رده بطل، وان أجازت الإجازة لما قلنا ، وبطل عقد الرهن ؛ لأن الإجازة إذا جازت وإنها عقد لازم، لا یبقی الرهن ضرورة ، والأجرة للراهن ؛ لأنها بدل منفعة مملوکة له، وولایة قبض الأجرة له أیضًا ۔ (۱۸۲/۸، کتاب الرهن ، فصل في حکم الرهن)
(تبیین الحقائق : ۱۴۷/۷، کتاب الرهن ، الاختیار لتعلیل المختار :۳۲۵/۲ ، کتاب الرهن) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۶/۴ھ
