رہن (Mortgage)رکھے ہوئے زیورات پر زکوة!

(فتویٰ نمبر: ۸۶)

سوال:

ہماری بہن کے زیورات ہماری ماموں زاد بہن نے رہن (گروی/ Mortgage) رکھے ہیں اور اُس رہن (Mortgage) پر اُٹھایا ہوا قرض(Loan) بھی خود ہی استعمال کررہی ہے، تو گویا وہ زیورات ہمارے ہاتھ میں ہیں ہی نہیں، تو ان کی زکوة ہم پر ادا کرنی واجب ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

جو زیورات رہن (Mortgage)پر رکھے ہوئے ہوں اُن میں زکوة واجب نہیں، کیوں کہ وجوبِ زکوة کے لیے ملک اور قبضہ ضروری ہے، جب کہ رہن (Mortgage) میں ملکیت تو ہوتی ہے مگر قبضہ نہیں ہوتا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا في مرهون ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (ولا في مرهون) أي لا علی المرتهن لعدم ملک الرقبة ، ولا علی الراهن لعدم الید ۔

(۷/۲ ، ط : مکتبه نعمانیه دیوبند ، رد المحتار : ۱۸۰/۳ ، کتاب الزکاة ، مطلب في زکاة ثمن المبیع وفاءً) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۶/۴ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔