ریلوے ملازم کا ”ریلوے قانون“ کی خلاف ورزی

مسئلہ:

بعض لوگ ریلوے میں ملازم ہوتے ہیں، ریلوے کے قانون کے مطابق ان لوگوں کو ایک سال میں کئی مرتبہ مفت پاس ملتا ہے، کہ وہ جہاں چاہیں بلاٹکٹ کے پاس دکھا کر آجا سکتے ہیں ، اب یہ لوگ دوسرے کے بچوں اور رشتہ داروں کو اپنا بچہ اور رشتہ دار بتا کر پاس دے کر ان سے روپئے وصول کرتے ہیں، ان کا یہ عمل شرعاً ناجائز ہے، کیوں کہ یہ طریقہ دھوکہ دہی اور خیانت پر مبنی ہے، جو شرعِ اسلامی میں منع ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” السنن للترمذي “ : عن أبي هریرة أن رسول الله ﷺ قال: ” من غش فلیس منا “۔

(۲۴۵/۱، أبواب البیوع، ما جاء في کراهیة الغش، الصحیح لمسلم:۷۰/۱، باب قول النبي ﷺ من غشنا، السنن لإبن ماجة:ص/۱۶۱، أبواب التجارة، باب النهي عن الغش)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أنس قال: قَلَّمَا خطبنا رسول الله ﷺ إلا قال: ” لا إیمان لمن لا أمانة له، ولا دین لمن لا عهد له “۔ (۱۵/۱، کتاب الإیمان ، الفصل الثاني)

(فتاویٰ محمودیه :۴۸۴/۱۸)

اوپر تک سکرول کریں۔