مسئلہ(۹۴):اگر مالکِ زمین کسی کاشت کار سے یہ طے کرلے کہ مجھے فی ایکڑ مثلاً پانچ سو روپئے سالانہ دے کر تم جس طرح چاہو زمین استعمال کرسکتے ہو، تو اس صورت میں عشر مالکِ زمین پر واجب ہوگا، یا کاشت کار پر؟ اس سلسلے میں ہمارے ائمہ کے مابین اختلاف ہے، امام صاحبؒ کے نزدیک عشر مالکِ زمین پر واجب ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک کاشت کار پر، عام فقہاء کرام صاحبین کے قول کو راجح قرار دیتے ہیں، یعنی کاشت کار پر عشر واجب ہوگا، علامہ شامیؒ نے اس میں یہ تفصیل نقل کی ہے کہ اگر زمین کا کرایہ اسی کے مناسبت سے مقرر کیا گیاتو عشر مالکِ زمین پر ہوگا، اور اگر کرایہ اجر مثل سے کم مقرر کیا گیا تو عشر کاشت کار پر ہوگا ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “: والعشر علی الموٴجر کخراج موظف، وقالا: علی المستأجر کمستعیر مسلم، وفی الحاوی: وبقولهما نأخذ۔ درمختار۔ قوله: (وبقولهما نأخذ) قال العلامة ابن عابدین قلت : فإن أمکن أخذ الأجرة کاملة یفتی بقول الإمام وإلا فبقولهما ، لما یلزم علیه من الضرر الواضح الذی لا یقول به أحد۔
(۲۵۱/۳، کتاب الزکاة، مطلب مهم فی حکم أراضی مصر)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولو آجر أرضاً عشریة کان العشر علی الآجر عند أبی حنیفة وعندهما علی المستأجر کذا فی الخلاصة۔
(۱۸۷/۱ ،الباب السادس فی زکوٰة الزرع والثمار ، البحر الرائق : ۴۱۳/۲، کتاب الزکوٰة، باب العشر، بدائع الصنائع :۱۷۳/۲، باب الخراج والعشر)
(فتاوی حقانیه:۵۷۸/۳، فتاوی دار العلوم :۱۹۲/۶، خیر الفتاوی :۴۵۰/۳)
