زوجہ، بہن، پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹے کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۲۱۸)

سوال:

مرحوم محبوب صاحب کا انتقال ہوا، جنہوں نے اپنے پس ماندگان میں پانچ بیٹیاں، ایک بیٹا، ایک بہن اور بیوی چھوڑی، اور ان کا کل ترکہ سو گنٹھے زمین ہے ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا ورثا کو شرعاً کتنا اور کون کون سا حصہ ملے گا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

بعد تقدیمِ ما یقدم علی الارث، مرحوم کی یہ جائداد آٹھ حصوں میں تقسیم ہوکر، ایک حصہ یعنی ساڑھے بارہ گنٹھے زمین(۲/۱ء۱۲) مرحوم کی بیوی کو(۱) ، اوردو حصے یعنی ۲۵/ گنٹھے زمین لڑکے کو، اور ایک ایک حصہ یعنی ساڑھے بارہ گنٹھے زمین(۲/۱ء ۱۲ ) ہر لڑکی کو از روئے شرع دیئے جائیں گے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَهنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکُمْ وَلَدٌ فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِوصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِها أَْوْ دَیْنٍ﴾۔(سورة النساء:۱۲)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۵/۴ھ

اوپر تک سکرول کریں۔