(فتویٰ نمبر: ۷۹)
سوال:
دوبھائیوں کے ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ کہ جنہوں نے اپنے طورپر مل کر دو سو چالیس گنٹھے زمین خریدی،اور ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک سو بیس گنٹھے ہیں، اور دونوں بھی انتقال کرگئے ، ان میں سے ایک بھائی جس کو کوئی اولاد نہیں مگر بیوی زندہ ہے ،اور دوسرا بھائی جس نے نولڑکے اور تین لڑکیاں اور بیوی چھوڑگیا،نیز ان دو بھائیوں کی دو بہنیں اور ماں زندہ ہیں، اب بتائیے کہ مذکورہ جائداد کس طرح تقسیم ہوگی ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
ہم نے چاہا کہ فی زماننا کے لحاظ سے مذکورہ ہر ایک کی جائداد کو قیمت کے ذریعہ تقسیم کریں اوریہ ممکن بھی ہے، لیکن مستفتی کا یہ اصرار رہاکہ نفسِ جائداد ہی کو تقسیم کیا جائے، تو اب ہم نے مذکورہ جائداد کی دو شکلیں نکالی۔
(۱) ان میں سے ایک بھائی جس نے ایک بیوی، دوبہنیں اور ماں چھوڑ کر گیا ،ان میں زمین کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ بیوی کو اٹھائیس گنٹھے اور ایک گنٹھے کا ساٹھواں حصہ ملے گا،اور بہنوں میں سے ہر ایک کو چھتیس گنٹھے اور ہر ایک کو ایک گنٹھے کا پچیسواں حصہ ملے گا، اور ما ں کو اٹھارہ گنٹھے اور ایک گنٹھے کا ۹۰/واں حصہ ملے گا۔
(۲) ان میں سے دوسرا بھائی جس نے کہ ایک بیوی، نو لڑکے اور تین لڑکیاں اور ماں چھوڑکر گیا ہے، بیوی کو اب پندرہ گنٹھے اور ایک گنٹھے کا بارہواں حصہ ملے گا، لڑکے جن میں سے ہر ایک کو آٹھ گنٹھے اور ایک گنٹھے کا چھٹا حصہ اور چوراسی پوائنٹ ملے گا، ہر لڑکی کو چار گنٹھے اور ایک گنٹھے کا تیسرا حصہ اور بیانوے پوائنٹ ملے گا، ماں کو بیس گنٹھے اور ایک گنٹھے کا سولہواں حصہ ملے گا ۔
نوٹ-: مذکورہ بالا دوسری شکل میں ایک گنٹھہ زیادہ ہورہا ہے، اور اس کو اپنے حال پر تقسیم کرنے سے برابری نہیں ہورہی ہے،لہٰذا اب ہم نے چاہا کہ اس ایک گنٹھے کو قیمت سے تقسیم کریں،تو شرعی اعتبار سے وہ کس طرح تقسیم ہوگا؟
نوٹ-: مندرجہ ذیل سوال اور جواب برائے تصحیح جامعہ کے دارالافتا بھیجا گیا تھا ، جس کا جواب دارالافتا سے دیا گیا!
الجواب وباللہ التوفیق:
جب دونوں بھائیوں نے مل کر ۲۴۰/ گنٹھے زمین خریدی تھی، تو ہر بھائی کی ملک میں ۱۲۰/ گنٹھے زمین ہوتی ہے، ایک ایکڑ ۴۰/ گنٹھوں کا ہوتا ہے، اور ایک گنٹھہ ایک ہزار اُناسی( ۱۰۸۹) مربع اسکوائر فٹ کا، اس طرح ۲۴۰/ گنٹھے کا چھ ایکڑ ہوا، جس میں سے ہر بھائی کی ملکیت میں کل ۳/ ایکڑ زمین ہوگی۔ ۳ایکڑ زمین مربع اسکوائر فٹ کے اعتبار سے ایک لاکھ تیس ہزار چھ سو اسی (۱۳۰۶۸۰) مربع اسکوائرفٹ ہوتی ہے؛ اس لیے:
۱-صورتِ اُولیٰ جس میں مرحوم کے پس ماندگان میں ایک بیوی، دوبہنیں اور ماں ہیں، بیوی کو بتیس ہزار چھ سو ستر (۲۳۶۷۰)(۱)،ما ں کواکیس ہزار سات سو اسی (۲۱۷۸۰)(۲)،اور دو بہنوں میں سے ہر ایک کو اڑتیس ہزار ایک سو پندرہ (۳۸۱۱۵)مربع اسکوائر فٹ ملے گا۔(۳)
۲-صورتِ ثانیہ جس میں مرحوم کے پس ماندگان میں والدہ ،ایک بیوی، نولڑکے، تین لڑکیاں اور دوبہنیں ہیں، بیوی کو سولہ ہزار تین سو سینتیس پوائنٹ پچیس(۲۵- ۱۶۳۳۷)،ماں کو اکیس ہزار سات سو تراسی(۲۱۷۸۳)،نولڑکوں میں سے ہر ایک کو آٹھ ہزار آٹھ سو پندرہ پوائنٹ دو (۲- ۸۸۱۵)(۴)، تین لڑکیوں میں سے ہر ایک کو چار ہزار چار سو سات پوائنٹ ساٹھ(۶۰- ۴۴۰۷) مربع اسکوائر فٹ ملے گا(۵)،اور مرحوم کی دونوں بہنیں محروم ہوں گی۔
نوٹ- : اگر دونوں بھائی ایک ساتھ انتقال کرگئے تھے، تو کوئی کسی کا وارث نہیں ہوگا۔(السراجی فی المیراث:ص /۹۷)
لیکن اگر پہلی صورت میں دوسرا بھائی پہلے بھائی کے انتقال کے وقت بقیدِ حیات تھا، تو وہ بھی ورثا میں داخل ہوکر اور بہنوں کے ساتھ عصبہ قرار پاکر﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ﴾ کی رُو سے بہنوں کے مقابلے میں دوہرے حصے کا حق دار ہوگا، اور اسے جو حصہ پہلے بھائی کی زمین سے ملے گا، وہ بھی اس کے ترکہ میں شامل ہوکر اس کے ورثا کے مابین صورتِ ثانیہ میں مذکور حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” السراجي في المیراث “ : أما للزوجات فحالتان : الربع للواحدة فصاعدةً عند عدم الولد وولد الإبن وإن سفل ۔ (ص/۱۲)
(۲) ما في ” السراجي في المیراث “ : أما للأم فأحوال ثلاث : ۔۔۔۔۔ السدس مع الولد ۔ (ص/۱۸)
(۳) ما في ” السراجي في المیراث “ : وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث : ۔۔۔۔۔۔۔ والثلثان للاثنتین فصاعدة ۔ (ص/۱۲)
(۴) ما في ” السراجي في المیراث “ : أما العصبة بنفسه ۔۔۔۔ وهم أربعة أصناف : ۔۔۔۔۔ جزء المیت ۔۔۔۔۔ أولٰهم بالمیراث جزء المیت أي البنون ۔ (ص/۲۱ ، ۲۲)
(۵) ما في ” السراجي في المیراث “ : أما لبنات الصلب فأحوال ثلاث : ۔۔۔۔۔ ومع الإبن للذکر مثل حظ الأنثیین ، وهو یعصبهن ۔ (ص/۱۲) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۵/۲۰ھ
الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۵/۲۰ھ
