زوجہ ،چار لڑکیاں اور چھ لڑکوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۲۳۷)

سوال:

زید کا انتقال ہوا، اس نے ترکہ میں بہتر(۷۲) لاکھ روپے چھوڑا اور اپنے پس ماندگان میں ایک بیوی، چھ لڑکے اور چار لڑکیاں چھوڑی، اب ان سب کے مابین ترکہ کی تقسیم کس طرح کی جائے گی ؟اور ہرایک کو کتنی کتنی رقم ملے گی؟

الجواب وباللہ التوفیق:

مرحوم کی کل جائداد ایک سو اٹھائیس (۱۲۸) حصوں میں تقسیم ہوکر، سولہ حصے یعنی نولاکھ(۹۰۰۰۰۰)روپے ان کی بیوی کو(۱)، چودہ چودہ حصے، یعنی سات لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو (۷۸۷۵۰۰) روپے چھ لڑکوں میں سے ہر لڑکے کو، اور سات سات حصے یعنی تین لاکھ ترانوے ہزار سات سو پچاس (۳۹۳۷۵۰)روپے چار لڑکیوں میں سے ہر لڑکی کو ازروئے شرع ملیں گے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)

ما في ” السراجي في المیراث “ : ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین ، وهو یعصبهن ۔ (ص/۱۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۶/۱۵ھ

اوپر تک سکرول کریں۔