(فتویٰ نمبر: ۱۶۴)
سوال:
ہمارے دادا چراغ الدین جمال الدین ہاشمی کا انتقال ہوا،انہوں نے اپنے انتقال کے وقت اپنے پیچھے ایک بیوی ،پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں چھوڑی، اور اپنی جائداد میں ایک بلڈنگ 16X65 بمقام اکل کوا ، اور ایک پلاٹ 28X68 بمقام دھولیہ چھوڑا۔
دادا نے اپنی حیات میں اپنے ایک لڑکے شمیم الدین چراغ الدین کو مذکورہ پلاٹ (28X68)میں سے 12X28ہبہ کیا تھا، جس پر انہوں نے اپنی حیات میں پایہ بھی بنالیا تھا۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ :
(۱)بلڈنگ اور پلاٹ میں کس وارث کا کتناحصہ ہوگا ؟
(۲) نیزدادا نے ان کے ایک لڑکے کوجو12X28کا پلاٹ دیا ،کیا وہ لڑکا باقی پلاٹ میں بھی حق دار ہوگا؟ یا اس کو جو 12X28کا پلاٹ دیا گیا تھا، اسی
کو حصہٴ شرعی مان کر باقی پلاٹ میں وہ حق دار نہیں ہوگا؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– بعد تقدیمِ ما یقدم علی الارث، صورتِ مسئولہ میں آپ کے دادا کی کل جائداد (بلڈنگ وپلاٹ) ایک سو بیس حصوں میں تقسیم ہوکر، ۱۵/ حصے ان کی بیوی کو، اورچودہ چودہ حصے پانچ لڑکوں میں سے ہر لڑکے کو، اور سات سات حصے پانچ لڑکیوں میں سے ہر لڑکی کو ازروئے شرع ملیں گے(۱)۔
۲– آپ کے دادا نے اپنی حیات میں پلاٹ کا جو حصہ 12X28اپنے بیٹے شمیم کو دیا تھا،وہ ان کی طرف سے ہبہ ہے، جو اس کی ملکیت ہے(۲)،اس ہبہ کی وجہ سے وہ باقی پلاٹ میں اپنے حصہٴ میراث سے محروم نہیں ہوگا، بلکہ اس میں بھی وہ حق دار ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱)
(۲) ما في ” مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر “ : (الهبة) هي تملیک العین بلا عوض، وتصح بإیجاب وقبول، وتتم بالقبض الکامل، فإن قبض في المجلس بلا إذن صح وبعده لا بد من الإذن۔ (۴۸۹/۳ – ۴۹۲ ، کتاب الهبة ، النقایة مع فتح باب العنایة : ۴۰۹/۲)
ما في ” المحیط البرهاني “ : قال محمد رحمه اللّٰه تعالی في الأصل: کل شيء وهبه لإبنه الصغیروأشهد علیه، وذلک الشيء معلوم في نفسه فهو جائز۔۔۔۔۔ والإشهاد لیس بشرط لازم، فإن الهبة تتم بالإعلام، ولکن ذکر الإشهاد احتیاطاً تحرزًا عن الجحود إذ کبر الولد، وإذا أرسل غلامه في حاجته ثم وهبه لإبنه الصغیر له صحت الهبة؛ لأن العبد بعد الإرسال في حاجته في ید المولی حکمًا، فلو لم یرجع العبد حتی مات الوالد فالعبد للولد، ولا یصیر میراثًا عن الوالد؛ لأن الأب بنفس الهبة صار قابضًا للإبن۔
(۱۸۵/۷ ، کتاب الهبة والصدقة، الفصل السادس في الهبة في الصغیر)
(۳)مافي”رد المحتار“: وشروطه ثلاثة: موت مورث حقیة۔۔۔ووجو د وارثه عند موته حیا حقیقة أو تقدیراکالحمل والعلم بجهة إرثه۔
(۴۹۱/۱۰، کتاب الفرائض، مجمع الأنهر :۴۹۴/۴، کتاب الفرائض)
(مستفاد ازجامع الفتاویٰ : ۲۲۹/۹) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۱/۱۵ھ
