زکوة کا بہترین مصرف کیا ہے؟

مسئلہ:

زکوٰة کا سب سے بہترین مصرف اپنے دیندار اقرباء ہیں، جب کہ وہ مستحق زکوٰة ہوں، اس کے ساتھ اگر وہ دین میں مشغول ہوں تو اس میں رشتہ داری اور تعلیم دین دونوں کی رعایت ہو سکتی ہے، فساق، فجار، جواری اور شرابی جو نہ نماز پڑھتے ہیں اور نہ روزہ رکھتے ہیں، بلکہ محض بھیک مانگتے پھرتے ہیں ، ان کو دینے سے تعلیم دین میں مشغول ہونے والوں کو دینا بہر حال افضل وبہتر ہے،(۱) پھر بھی اگر کسی نے دیدیا اور یہ لوگ صاحب نصاب نہیں ہیں، تو زکوٰة ادا ہوجائے گی۔ (۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : الأفضل فی الزکوٰة والفطر والنذور الصرف أولاً إلی الإخوة والأخوات ثم إلی أولادهم ثم إلی الأعمام والعمات ثم إلی أولادهم ثم إلی الأخوال والخالات۔ (۱۹۰/۱)

ما فی ” مجمع الأنهر “ : الأفضل إخوته ثم أولادهما، ثم أعمامه وعماته ثم أولادهما، ثم أخواله وخالاته ثم أولادهما، ثم جیرانه ثم أهل سکنه ثم أهل حرفته ثم أهل مصرفه أو قریته کما فی الجوهرة وغیرها۔ (۳۳۳/۱۔۳۳۴، کتاب الزکوٰة، قبیل باب صدقة الفطر، الشامیة: ۳۰۴/۳، کتاب الزکوٰة، باب المصرف)

(۲) ما فی ” تبیین الحقائق “ : (مصرف الزکوٰة) والأصل فیه قوله تعالی: ﴿إنما الصدقت للفقراء والمسٰکین﴾ قال رحمه الله تعالی: (هو الفقیر والمسکین) أی المصرف هو الفقیر والمسکین لما تلونا ۔ (۱۱۱/۲۔۱۱۲، کتاب الزکوٰة ، باب المصرف)

ما فی ” الدر المختار “ : مصرف الزکوٰة والعشر هو فقیر وهو من له أدنیٰ شيء أی دون نصاب، أو قدر نصاب غیر تام مستغرق فی الحاجة، ومسکین من لا شيء له علی المذهب۔(۲۸۳/۳۔۲۸۴، کتاب الزکوٰة، باب المصرف)

 (فتاوی محمودیه: ۱۷۷/۱۴)

اوپر تک سکرول کریں۔