زکوة کی رقم سے غریبوں کواناج وغیرہ دینا!

(فتویٰ نمبر: ۲۰۳)

سوال:

اکثر لوگوں کا معمول ہے کہ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں زکوة ادا کرتے ہیں، خیر میرا معمول رمضان المبارک کے ایک ہفتہ پہلے دے دینے کا ہے، کچھ رشتے دار جو حق دار ہیں اور کچھ گھریلو کام کرنے والی نوکرانیاں جو گھر گھر جاکر کام کرتی ہیں، اکثر کام والیوں کی شکایت ہے کہ شوہر اور بچوں کے کام کا ٹھکانہ نہیں، اگر کماتے ہیں تو وہ اپنا شوق پورا کرلیتے ہیں، بلکہ رمضان میں ملی ہوئی رقم پر بھی ان کی نظر ہو تی ہے۔

سوال یہ ہے کہ میں اپنی زکوة نقد دینے کے بجائے کام والیوں اور رشتہ داروں کو پورے رمضان المبارک کے لیے اناج اورکچھ رقم دے دیتاہوں،اور جن رشتہ دار وں کے بچے صحیح راستے پر ہیں، اوروہ یا تو نوکری پر ہیں یا کالج وغیرہ جاتے ہیں،ان کو عید کے کپڑے دلا دیتا ہوں،اور ان کے گھر کچھ رقم بھی دے دیتا ہوں، توکیا اس طرح اناج اور کپڑا وغیرہ دے دینے سے زکوة ادا ہوجائے گی؟ یا نقد رقم ہی دینا لازم ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

جس مال پر زکوة واجب ہے، زکوة میں اسی مال کا دینا واجب نہیں ہے،بلکہ اس مال میں سے واجب مقدار کی قیمت کے اعتبار سے دوسرا مال زکوة میں دینے سے بھی زکوة ادا ہوجاتی ہے، اس لیے آپ کا کام والیوں اور رشتہ داروں کو پورے رمضان المبارک کا اناج اور کچھ رقم دے دینا، اسی طرح رشتہ داروں کے بچوں کو عید کے کپڑے دلادینا اور کچھ رقم دینا شرعاً درست ہے(۱)، بشرطیکہ یہ سب کے سب مستحقِ زکوة ہوں۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : لأن المالک إن شاء دفع العین ، وإن شاء دفع القیمة من النقدین والعروض وغیر ذلک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقول معاذ لأهل الیمن حین بعثه ﷺ إلیهم : ” ائتوني بخمیس أو لبیس مکان الذرة والشعیر ، فإنه أیسر علیکم ، وأنفع لمن بالمدینة من المهاجرین والأنصار “ ۔ وکان یأتي به رسول اللّٰه ﷺ ولا ینکر علیه ۔ (۱۳۴/۱، ۱۳۵ ، کتاب الزکاة ، ط : قدیمي کتب خانه مقابل آرام باغ کراچی ، و : ۱۵۲/۱ ، کتاب الزکاة ، ط : دار أرقم بیروت)

(فتح باب العنایة بشرح النقایة : ۵۰۴/۱ ، کتاب الزکاة)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : أما إذا أدی من خلاف جنسه فالقیمة معتبرة اتفاقًا ۔ (۱۹۵/۳ ، کتاب الزکاة ، باب زکاة الغنم)

ما في ” بدائع الصنائع “ : أما الذي یرجع إلی الموٴدی فمنها أن یکون مالاً متقومًا علی الإطلاق ، سواء کان منصوصًا علیه أو لا من جنس المال الذي وجبت فیه الزکاة أو من غیر جنسه ، والأصل أن کل مال لا یجوز التصدق به تطوعًا یجوز أداء الزکاة منه ، وما لا فلا ، وهذا عندنا ۔(۱۴۶/۲، کتاب الزکاة ، فصل ما یرجع إلی الموٴدی)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولو أدی من خلاف جنسه یعتبر القیمة بالإجماع ۔(۱۷۹/۱، الباب الثالث في زکاة الذهب والفضة والعروض)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ :﴿إنما الصدقٰت للفقرآء والمسٰکین والعٰملین علیها والموٴلفة قلوبهم﴾ ۔ (سورة التوبة :۶۰)

ما في ” بدائع الصنائع “ : أما الذي یرجع إلی الموٴدی إلیه فأنواع : منها أن یکون فقیرًا ، فلا یجوز صرف الزکاة إلی الغني إلا أن یکون عاملاً علیها ، لقوله تعالی :﴿إنما الصدقٰت للفقرآء والمسٰکین والعٰملین علیها والموٴلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمین وفي سبیل اللّٰه وابن السبیل﴾ ۔ جعل اللّٰه تعالی الصدقات للأصناف المذکورین بحرف اللام وأنه للاختصاص ، فیقتضي اختصاصهم باستحقاقها ، فلو جاز صرفها إلی غیرهم لبطل الاختصاص ، وهذا لا یجوز ۔

(۱۴۹/۲ ، ۱۵۰ ، فصل وأما الذي یرجع إلی الموٴدی إلیه فأنواع) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۴/۱۱ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔