سالی کا اپنے بہنوئی کے ساتھ حج وعمرہ کا سفر کرنا

مسئلہ:

بعض لوگ اپنی بیوی کے ساتھ اس کی بہن یعنی اپنی سالی کو سفرِ حج یا عمرہ پر لے جاتے ہیں، اور اپنے آپ کو اس کا محرم خیال کرتے ہیں، جبکہ وہ شرعاً محرم نہیں ہیں، کیوں کہ محرم ِشرعی ایسا شخص ہے جس کا نکاح عورت کے ساتھ ہمیشہ کیلئے حرام ہو(۱)، حالانکہ سالی ہمیشہ کیلئے حرام نہیں ہے، اس لیے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دیدے، یا بیوی کا انتقال ہوجائے، تو اس کیلئے اپنی سالی سے نکاح کرنا جائز ہوتا ہے(۲)، معلوم ہوا کہ بہنوئی سالی کیلئے محرم نہیں ہے، لہذا سالی کا اپنے بہنوئی کے ساتھ حج وعمرہ کا سفر کرنا جائز نہیں ہے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی”الشامیة “ : والمحرم من لا یجوز له مناکحتها علی التأبید بقرابة أو رضاع أو بصهریة۔

(۴۱۱/۳ ، کتاب الحج ، مطلب یقدم حق العبد علی حق الشرع، الفتاوی الولوالجیة :۲۵۳/۱ ، الاختیار لتعلیل المختار : ۲۰۰/۱ ، الفتاوی الهندیة : ۲۱۹/۱ ، کتاب المناسک)

(۲) ما فی ” مجمع الأنهر “ : أما لو ماتت المرأة فتزوج بأختها بعد یوم جاز۔ (۴۷۸/۱، کتاب النکاح، باب المحرمات)

ما فی ” الدر المنتقی فی شرح الملتقی مع المجمع“ : ولو ماتت الزوجة فلزوجها التزوج بأختها یوم الموت ۔(۴۷۸/۱، کتاب النکاح، باب المحرمات)

(۳) ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن نافع عن عبد الله بن عمر عن النبی ﷺ قال: ” لا یحل لإمرأة توٴمن بالله والیوم الآخر تسافر مسیرة ثلاث لیال إلا ومعها ذو محرم “۔

(۴۳۳/۱، أبواب الحج ، باب سفر المرأة مع محرم إلی الحج وغیره)

ما فی ” السنن الدارقطنی “ : عن ابن عباس رضی الله تعالی عنه قال : قال النبی ﷺ : ” لا تحجن امرأة إلا ومعها ذومحرم “۔(۱۹۹/۲، کتاب الحج، رقم الحدیث : ۲۴۱۷)

(فتاوی رحیمیه: ۵۵/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔