مسئلہ:
اگر کسی شخص نے اپنی کاشت کی زمین میں سبزیاں مثلاً بھنڈی، ٹماٹر، بیگن، گاجر اور مولی وغیرہ کی کاشت کی، تو ان میں عشر واجب ہوگا یا نہیں؟اس سلسلہ میں ہمارے ائمہ ثلاثہ کے مابین اختلاف ہے، صاحبین فرماتے ہیں انہی سبزیوں میں عشر واجب ہوگا جو ایک سال تک باقی رہتی ہوں، اور پانچ وسق یعنی، 944/کلو 784/ گرام کو پہنچ جائے، جبکہ امام صاحب کے نزدیک وجوبِ عشر میں نہ تو ایک سال باقی رہنے کی شرط ہے اور نہ ہی پانچ وسق کی، بلکہ ایک قول کے مطابق ایک صاع، یعنی 3/ کلو 149/ گرام ، 280/ ملی گرام، اور دوسرے قول کے مطابق نصف صاع، یعنی ڈیڑھ کلو 74/ گرام 140/ ملی گرام بھی ہو، تو اس میں عشر واجب ہوگا، اور امام صاحب کا قول ہی صحیح وراجح ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الشامیة “ : قال الشامی تحت قوله: (بلا شرط نصاب وبلا شرط بقاء) فیجب فیما دون النصاب بشرط أن یبلغ صاعاً وقیل نصفه، وفی الخضروات التی لا تبقی، وهذا قول الإمام وهو الصحیح کما فی التحفة، وقالا: لا یجب إلا فیما له ثمرة باقیة حولاً بشرط أن یبلغ خمسة أوسق إن کان مما یوسق۔(۲۴۲/۳، باب العشر)
ما فی ” الإختیار لتعلیل المختار “ : ما سقته السماء أو سقی سیحا ففیه العشر قلّ أو کثر، ویستوی فیه ما یبقی وما لا یبقی، وقالا: لا یجب العشر إلا فیما یبقی إذا بلغ خمسة أوسق والوسق ستون صاعاً فلا یجب فی البقول۔۔۔۔۔۔۔ له قوله تعالی :﴿أنفقوا من طیبات ما کسبتم ومما أخرجنا لکم من الأرض﴾ ولا واجب فیه إلا العشر أو نصفه فیکون المراد العشر ولم یفصل بین القلیل والکثیر وما یبقیٰ وما لا یبقی فیتناول الکل۔
(۳۶۲/۱، باب زکوٰة الزروع والثمار، بدائع الصنائع:۱۷۹/۲ ، شرائط المحلیة، فتاوی قاضیخان:۱۳۲/۱، الهدایة:۲۰۲/۱، الفتاوی التاتارخانیة:۷۴/۲، الفتاوی الهندیة:۱۸۶/۱، البحر الرائق:۴۱۵/۲)
(فتاوی حقانیه:۵۸۴/۳)
